خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 400

خلافة على منهاج النبوة ۴۰۰ جلد سوم خود حضرت عمر وہاں تشریف نہ لائیں تو اُس وقت بھی حضرت عمر نے حضرت علیؓ کو ہی اپنے بعد مدینہ کا گورنر مقرر کیا تھا حالانکہ آپ کو کئی ماہ کا سفر در پیش تھا۔اس روایت سے ثابت ہے کہ حضرت علی اپنا عندیہ اتنا چھپاتے تھے کہ حضرت عمرؓ اُن کو اپنے پیچھے گورنر مقرر کر دیتے تھے اور اس بات سے ذرا بھی نہیں ڈرتے تھے کہ پیچھے یہ بغاوت کردیں گے گویا حق چھپانے کی عادت حضرت علیؓ میں انتہا درجہ کی پائی جاتی تھی۔اگر یہی بات کسی شیعہ عالم کے متعلق کہی جائے تو غالبا وہ گالیاں دینے لگ جائے گا لیکن ایسی گندی بات حضرت علی کی طرف منسوب کرتے ہوئے وہ ذرا نہیں شرماتے اور در حقیقت وہ اس طرح حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر کو گالیاں نہیں دیتے بلکہ خود حضرت علیؓ کو گالیاں دیتے ہیں۔بہر حال جو شخص ابو بکر اور عمر کی غلامی کا جو اپنی گردن پر رکھ لیتا ہے اور ان کی بیعت میں شامل ہو جاتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اُس کی نسبت یہ کہنا کہ وہ دل میں خلافت کو اپنا حق سمجھتا تھا اور حق بھی لیاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ منشائے شریعت کے مطابق۔اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی بنتے ہیں کہ حضرت علی نَعُوذُ باللہ ظاہر کچھ کرتے تھے اور دل میں کچھ رکھتے تھے اور یہ بات حضرت علی کی نسبت امکانی طور پر بھی ذہن میں لانا گناہ ہے کجا یہ کہ اس کے وقوع پر یقین کیا جائے۔پس اول تو حضرت علی کا طریق عمل خود اس خیال کو باطل کر رہا ہے دوسرے قذافلَة الْمُؤْمِنُون کی آیت بھی شیعوں کے اس خیال کی تردید کرتی ہے کیونکہ یہ آیت بتاتی ہے کہ جن مومنوں میں وہ صفات ہوں گی جن کا اللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں ذکر فرمایا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔کیونکہ افلہ کے معنی اپنے مقصد اور مدعا کو حاصل کر لینے اور اس میں کامیاب ہو جانے کے ہوتے ہیں۔پس اگر حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کو شیعوں کے نظریہ کے مطابق خلافت کی خواہش تھی اور وہ خلیفہ بن بھی گئے تو صاف طور پر معلوم ہو گیا ہے کہ وہ کامل مومن تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے مذہبی اور سیاسی نظام کی باگ ڈور دے دی اور انہیں دنیا کا راہنما بنا دیا۔یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے باوجو د حضرت علیؓ یہی چاہتے تھے کہ ابو بکر خلیفہ ہو جائیں میں نہ بنوں۔سوخدا نے ان کی اس خواہش کو پورا کر دیا