خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 398
خلافة على منهاج النبوة ۳۹۸ جلد سوم ہاتھوں کو بوسہ دینے سے متعلق سورۃ مریم آیت ۵۳ وَنَادَيْنَهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ - لفظ الْأَيْمَنِ بمعنی ” برکت والے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاتھوں کو بوسہ دینے کے مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں :۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ الہی کلام جس جگہ نازل ہوتا ہے وہ جگہ بھی با برکت ہو جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ جب ہماری جماعت میں نئے نئے داخل ہوتے ہیں اور وہ جماعت کے دوستوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ میرے ہاتھوں کو بوسہ دے رہے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ کیا ہاتھوں کو بوسہ دینا شرک تو نہیں ؟ خصوصاً اہل حدیث میں سے جولوگ ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں وہ بعض دفعہ اس قسم کا سوال کر دیتے ہیں حالانکہ حدیثوں سے صاف ثابت ہے کہ صحابہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ چوما کرتے تھے۔وہ اہل حدیث کہلاتے ہیں مگر اس قسم کی حدیثوں کو بھول جاتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بے جان چیز بھی اگر کسی با برکت وجود سے وابستہ ہو جائے تو وہ برکت والی ہو جاتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا کلام جب کسی جگہ پر نازل ہوتا ہے تو وہ جگہ بھی با برکت ہو جاتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۵ صفحه ۲۹۱)