خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 384
خلافة على منهاج النبوة ۳۸۴ جلد سوم ہوا ہوتا لیکن افسوس اُنہوں نے اس نعمت کی بھی قدر نہ کی اور بادشاہت کی طرف متوجہ ہو گئے اور اُس شان کو کھو بیٹھے جو خلافت کے ذریعہ ان کو حاصل ہوئی تھی۔تیسری قسم کی خلافت جو تابع انبیاء کے ذریعہ سے حاصل ہوئی تھی اس کی طرف سے مسلمان ایسے غافل ہوئے کہ آخری زمانہ میں اس قسم کی نبوت کا سرے سے ہی انکار کر دیا اور باب نبوت کو خواہ غیر تشریعی ہی کیوں نہ ہو بند کر کے اس عظیم الشان فضل سے منکر ہو گئے جو اس زمانہ میں صرف اسلام سے ہی مخصوص تھا اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے کا ایک زبر دست ثبوت تھا کیونکہ تابع کی نبوت متبوع کی نبوت اور شان کو بڑھاتی اور روشن کرتی ہے نہ کہ کم کرتی ہے۔جماعت احمدیہ کا ایمان ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے ذریعہ سے اس پُرفتن زمانہ کی اصلاح اور اسلام کو دوبارہ اس مقام پر کھڑا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے پھر اس تابع نبوت کا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مناسب حال اُمتی نبوت ہے دروازہ کھولا ہے اور آپ کے ذریعہ سے اس نے پھر آپ کے ماننے والوں میں خلافت کو بھی زندہ کر دیا ہے جس سے پھر ایک دفعہ ساری دنیا میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو ایک ہاتھ پر جمع ہو کر خدمت اسلام کر رہا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کو ان کا حق دلانے کیلئے رات دن جد و جہد کر رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پھر دنیا میں اسلام کا بول بالا ہوگا اور کفر بھاگ جائے گا۔سيُهزِّمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرا ، ( تفسیر کبیر جلد اصفحه ۳۰۴ تا ۳۰۷) البقرة : ٣١ ص: ۲۷ 66 س الاعراف: ۷۰ الاعراف: ۷۵ ۵ الاعراف: ۱۴۳ المائدة: ۴۵ ك المائدة: ۴۷ متی باب ۵ آیت ۱۷، ۱۸۔برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی ۱۸۸۷ ءلندن النور : ۵۶ القمر : ٤٦