خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 385

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۵ جلد سوم قتل نفس سے مراد سورۃ البقره آیت ۵۴ فَاقْتُلُوا اَنْفُسَكُمْ کا ذکر کرتے ہوئے لفظ ”قتل“ کی حضور نے تفسیر فرمائی۔آپ فرماتے ہیں :۔لسان العرب میں قتل کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر جب خلافت کا انتخاب ہونے لگا تو بعض لوگوں نے اُس وقت اختلاف کیا اور ان میں سے ایک سعد بھی تھے ان کے متعلق کہا گیاقَتَلَ اللَّهُ سَعْدَا فَإِنَّهُ صَاحِبُ فِتْنَةٍ وشرت کہ اللہ تعالٰی سعد کو قتل کرے کیونکہ وہی فتنہ و فساد کی جڑ ہیں اور مطلب یہ تھا کہ دَفَعَ اللهُ شَرَّة کے یعنی اللہ تعالی سعد کے شر کو دفع کرے اور اس کے ارادوں کو پورا نہ کرے۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرما یا اقْتُلُوا سَعْدًا قَتَلَهُ الله سے کہ سعد کو قتل کر دو اللہ تعالیٰ اسے قتل کرے اور مطلب یہ تھا کہ اِجْعَلُوهُ كَمَنْ قُتِلَ وَاحْسِبُوهُ فِي عِدَادِ مَنْ مَاتَ وَهَلَكَ وَلَا تَعْتَدُوا بِمَشْهَدِهِ وَلَا تُعَرِجُوا عَلى قَوْلِہ یعنی اے لوگو ! تم سعد کی طرف التفات نہ کرو بلکہ اپنی توجہ کو اُس سے ہٹا کر اُسے ایسا کر دو کہ گویا وہ مقتول ہے اور اُس کو ان لوگوں میں شمار کرو جو مر چکے ہوں اور اُس کو کسی گنتی میں نہ لاؤ۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بھی اس سے ایسا ہی سلوک کرے۔اسی طرح حضرت عمرؓ سے ایک حدیث مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ مَنْ دَعَا إِلَى إِمَارَةٍ نَفْسِهِ أَوْ غَيْرِهِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَاقْتُلُوهُ أَى اجْعَلُوهُ كَمَنْ قُتِلَ وَمَاتَ بِأَنْ لَا تَقْبِلُوا لَهُ قَوْلَهُ وَلَا تُقِيمُوالَهُ دَعْوَةً یعنی جو شخص اپنی خلافت یا اور کسی کی خلافت کا پرو پیگنڈا کرے اور لوگوں کو کہے کہ اُسے یا فلاں شخص کو خلیفہ بناؤ اس کو قتل کر دو یعنی اُس کی بات کو قبول نہ کرو اور مکمل طور پر اُس۔