خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 383

خلافة على منهاج النبوة ۳۸۳ جلد سوم اِس آیت میں مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو پہلی اُمتوں کی طرح کی خلافت حاصل ہوگی اور پہلی اُمتوں کی خلافت جیسا کہ قرآن کریم سے اوپر ثابت کیا جا چکا ہے تین قسم کی تھی۔(1) ایسے انبیاء ان میں پیدا ہوئے جو ان کی شریعت کی خدمت کرنے والے تھے۔(۲) ایسے وجودان میں کھڑے کئے گئے جو نبی تو نہ تھے لیکن خدا تعالیٰ کی خاص حکمت نے اُن كو أن اُمتوں کی خدمت کے لئے چن لیا تھا اور وہ اُمت کو صحیح راستہ پر رکھنے کے کام پر خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت لگائے گئے تھے۔(۳) ان امتوں کو خدا تعالیٰ نے پہلی قوموں کا قائم مقام بنایا اور پہلوں سے شوکت چھین کر ان کو دی۔یہ تین قسم کی خلافتیں ہیں جن کا مسلمانوں سے وعدہ تھا اور تینوں کے حصول سے ہی اسلام کی شوکت پوری طرح ظاہر ہو سکتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی مسلمانوں کو اس وعدہ کے مطابق پہلی قوموں کی جگہ پر متمکن کر دیا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک اور برباد کر دیا اور اگر مسلمان ایمان اور عمل صالح پر قائم رہتے تو ہمیشہ کے لئے ان کی شوکت قائم رہتی لیکن افسوس کہ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہ دین کی طرف سے ہٹ کر دنیا میں مشغول ہو گئے اور انہوں نے غلطی سے سمجھا کہ دوسری اقوام کی طرح وہ دنیا میں مشغول ہو کر بھی ترقی کر سکتے ہیں حالانکہ قرآن کریم صاف فرما چکا تھا کہ مسلمانوں کی ترقی دوسری اقوام کی طرح نہ ہوگی بلکہ وہ جب ترقی کریں گے ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ سے ترقی کریں گے۔صدیوں کے تجربہ نے اس صداقت کو ثابت کر دیا ہے کاش ! وہ اب بھی اپنی ترقی کے گر کو سمجھ کر ایمان اور عمل صالح کی طرف توجہ کریں۔۔دوسری قسم کی خلافت انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ملی جبکہ اوّل حضرت ابو بکر اور پھر حضرت عمرؓ اور پھر حضرت عثمان اور پھر حضرت علی یکے بعد دیگرے نعمت خلافت سے متمتع ہوئے اور ان کی اس نعمت سے تمام مسلمانوں نے حصہ پایا۔اگر بعد کے مسلمان اس نعمت کی قدر کرتے تو وہ صحابہ کی ترقی کی راہ پر گامزن رہتے اور آج اسلام کہیں کا کہیں پہنچا