خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 25
خلافة على منهاج النبوة ۲۵ جلد سوم ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرنے کی ہدایت ۲۱ رفروری ۱۹۳۰ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا :۔صحابہ کو دیکھو۔خلیفہ کے انتخاب کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سات آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی تھی۔لیکن انہوں نے بھی آپس میں پرو پیگنڈ ا نہیں کیا۔اس وقت میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ انہوں نے آپس میں کس طرح رائے کو پختہ کر لیا۔باوجود یکہ پرو پیگنڈا بھی نہ کیا۔مگر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح پرو پیگنڈا جائز نہیں۔اس لئے اگر کسی خاص شخص کی تائید میں کوئی شخص پرو پیگنڈا کر رہا ہو تو میں یہ کہوں گا کہ اس کی مخالفت کی جائے۔لیکن یہ بات صرف جماعت کے لئے ہے۔جب جماعت کسی فیصلہ پر پہنچ جائے تو پھر دوسروں میں اس کے متعلق پرو پیگنڈا ضرور ہونا چاہئے۔کیونکہ اس کا اثر جماعت کی رائے پر نہیں بلکہ دوسروں کی رائے پر ہو گا لیکن اگر ثابت ہو جائے کہ جماعت میں کسی شخص کا دوست دشمن نہیں۔کیونکہ ہوسکتا ہے کوئی دشمن کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے اس کے حق میں پرو پیگنڈا کر کے میرے ان الفاظ سے بھی فائدہ اُٹھانا چا ہے۔اس لئے دشمن نہیں بلکہ اگر کسی دوست کی طرف سے پرو پیگنڈا ہورہا ہو تو اس کی مخالفت کی جائے۔اس کے متعلق ایک ہدایت میں اور بھی دینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ سمال ٹاؤن کمیٹی کا کام ابھی نیا نیا ہے اور نئے کا موں کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کام کرنے والوں کو کافی وقت دیا جائے۔اس لئے اگر کسی ممبر پر کوئی خاص اعتراض نہ ہو تو میں یہی مشورہ دوں گا کہ موجودہ ممبران کو برقرار رکھا جائے تا انہیں کام کرنے کے لئے چھ سال کا موقع مل سکے۔چھ سال کے بعد اگر بہتر آدمی ملے تو ضرور اسے منتخب کر لیا جائے۔لیکن اب کے چاہے بہتر آدمی ملے پھر بھی اگر کسی ممبر کی ذات