خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 24
خلافة على منهاج النبوة ۲۴ جلد سوم وصیت کی اصل غرض اور ضرورت حضور فرماتے ہیں :۔(فرموده ۱۴رمئی ۱۹۲۶ء) سب سے بڑا فتنہ ایک اور پیدا ہوا جو خیال میں بھی نہیں آسکتا۔اور وہ خلافت کے متعلق فتنہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خیال بھی نہ ہوگا جب آپ نے وصیت لکھی کہ ایسی جماعت بھی پیدا ہوگی جو اس کے ماتحت کہے گی کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے مگر اس طرح بھی وصیت ٹھوکر کا باعث ہوئی اور ایسا فتنہ پیدا ہوا جس نے جماعت کو تہ و بالا کر دیا۔اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ سوائے معدودے چند لوگوں کے سب اس طرف ہو گئے کہ خلیفہ کو منتخب کرنا غلط تھا۔مگر حضرت خلیفہ اول کی تقریر نے بتا دیا کہ یہ خیال غلط تھا اور خلیفہ کا انتخاب بالکل درست تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جماعت پر روحانیت اور برکات کے نزول کا خاص وقت تھا اور یہ ممکن ہی نہیں کہ نبی کے فوت ہونے کے معاً بعد جماعت گمراہی اور ضلالت پر جمع ہو۔کیا یہ ممکن ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے نبی کو اُٹھالیا اور جماعت سب سے زیادہ رحم کی مستحق ہو گئی اُس وقت خدا تعالیٰ جماعت کو گمراہ ہونے دے پس در حقیقت سچا فیصلہ وہی تھا جو جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے متعلق کیا۔لیکن پھر بھی کچھ ایسے لوگ تھے اور اب تو ان میں اور بھی اضافہ ہو گیا جن کا خیال ہے کہ خلیفہ نہیں ہونا چاہئے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت کے دوٹکڑے ہو گئے اور ایک ٹکڑہ پراگندہ ہو کر جماعت سے باہر چلا گیا۔پراگندہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس میں کوئی اتحاد نہیں مگر ان میں ایسے لوگ شامل ہیں جو کسی وقت ( خطبات محمود جلده اصفحه ۱۷۴) 66 جماعت میں اہمیت رکھتے تھے۔“