خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 365

خلافة على منهاج النبوة ۳۶۵ جلد سوم حکومت اور خلیفہ وقت کی اطاعت حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۵ جولائی ۱۹۵۲ء کو خطبہ جمعہ میں اپنے شائع ہونے والے انٹرویو کا ذکر کیا جس میں بعض غلطیاں تھیں۔حکومت کی اطاعت اور خلیفہ وقت کی اطاعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : - ” خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے یا گورنمنٹ کی؟ اگر جماعت اور گورنمنٹ میں اختلافات بڑھ جائیں تو جماعت آپ کی فرمانبرداری کرے گی یا گورنمنٹ کی ؟ یہ سوال کئی سال سے چلا آتا ہے۔انگریزوں کے وقت میں بھی یہ سوال اُٹھا تھا کہ ہمارا اور آپ کا اتحاد کیسے ہو سکتا ہے جبکہ جماعت آپ کی فرمانبرداری کو ضروری خیال کرتی ہے۔اس سوال کا جو جواب میں نے دیا تھا وہ بھی انہوں نے درست لکھا ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔ہم آیات قرآنیہ نکال نکال کر کہتے ہیں کہ حکومت وقت کی فرمانبرداری ضروری ہے۔ہم احادیث نکال نکال کر کہتے ہیں کہ حکومت وقت کی فرمانبرداری ضروری ہے۔پھر میں اپنے متبوع کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تو یہی لکھتے آئے ہیں کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے اور میں خود بھی ۳۵، ۳۶ سال سے یہی کہتا چلا آیا ہوں کہ حکومت وقت کی اطاعت کرو۔آخر میں اپنے قول کی مخالفت کیونکر کر سکتا ہوں۔دراصل ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ کا محافظ خدا تعالیٰ ہے اور وہ اس سے ایسی غلطیاں سرزد نہیں ہونے دے گا جو اصولی امور کے متعلق ہوں۔پس اس سوال کا اصل جواب تو یہ تھا کہ خلیفہ ایسی غلطی نہیں کر سکتا لیکن اس جواب سے غیر احمدیوں کی تسلی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ وہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کے متعلق یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ وہ ایسی غلطی نہیں کر سکتا۔اس قسم کے سوال فرضی کہلاتے ہیں۔ان کے جوابات بھی