خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 366
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۶ جلد سوم دیئے جاسکتے ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سوال فرضی ہے اس لئے میں نے اس کا جواب نہیں دیا لیکن اگر میں ایسا جواب دیتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ غیر احمدیوں کے شبہات دور نہ ہوتے بلکہ وہ کہتے یہ سوال کو ملا گئے ہیں۔پس میرے اس جواب سے جو ہوتا تو بالکل درست سچائی ظاہر نہیں ہوسکتی تھی۔ایسے موقع پر مناسب یہی ہوتا ہے کہ اس فرضی سوال کا جواب بھی دے دیا جائے چنانچہ میں نے اس سوال کے جواب میں اُس نمائندے سے یہ کہا کہ جب جماعت کا خلیفہ با وجود اس کے کہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کرو، احادیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کرنی چاہیے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کرو۔میں خود ۳۶،۳۵ سال سے اس بات کی تلقین کر رہا ہوں کہ حکومت وقت کی اطاعت ضروری ہے حکومت وقت کی نافرمانی کی تعلیم دے گا تو لازماً جماعت اس سے پوچھے گی کہ یہ حوالے کہاں گئے آپ ہمیں اب کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ در حقیقت ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور وہ اسے اس قسم کی غلطی نہیں کرنے دیتا جو اصولی امور سے تعلق رکھتی ہو۔پس یہ سوال ہی غلط ہے ایسا موقع ہی نہیں آ سکتا کہ جماعت احمدیہ کا سچا خلیفہ حکومت وقت سے بغاوت کی تعلیم دے۔وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے اور وہ یہ غلطی نہیں کر سکتا۔“ الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۵۲ء)