خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 364
خلافة على منهاج النبوة ۳۶۴ جلد سوم کہ اگر آپ پسند کریں تو ہم آپ کو کوئی خطاب دینا چاہتے ہیں۔لیکن میں نے ہر دفعہ یہی کہا کہ میں تمہارے خطاب کو ذلّت سمجھتا ہوں اور جس چیز کو جماعت احمدیہ کا خلیفہ اپنی ذلت اور ہتک سمجھتا ہے اس کا بانی اس کی کیا حقیقت اور قیمت سمجھتا ہوگا۔تین دفعہ حکومت نے یہ کہا کہ ہم کوئی خطاب دینا چاہتے ہیں۔ایک دفعہ حکومت ہند کے ایک ممبر نے ایک احمدی کو بلا کر کہا کہ کیا تم اس بات کا پتہ کر سکتے ہو کہ اگر ہم مرزا صاحب کو کوئی خطاب دینا چاہیں تو وہ خطاب لے لیں گے۔یعنی ان کے دل میں بھی شبہ تھا کہ اگر ہم نے کوئی خطاب دیا تو یہ اسے منظور نہیں کریں گے۔جس شخص سے حکومت کے ممبر نے اس بات کا ذکر کیا اس میں اتنا ایمان نہیں تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ اگر خلیفہ کی شان کے مطابق کوئی انعام مل جائے تو اس میں ہماری عظمت ہو گی۔اس نے بیوقوفی سے کہہ دیا کہ اگر آپ ان کی شان کے مطابق کوئی انعام دیں گے تو وہ لے لیں گے اور مثال دی کہ جس طرح کا خطاب سر آغا خاں کو دیا گیا ہے اسی قسم کا خطاب دے دیا جائے جوان کی شان کے مطابق ہو تو وہ انکار نہیں کریں گے۔اس کے بعد مجھ کو خط لکھا تو میں نے جواب دیا کہ تم کتنے گھٹیا درجہ کے مومن ہو۔وہ خلیفہ اسیح کے خطاب سے بڑھ کر کونسا خطاب مجھے دیں گے۔میں ایک مامور من اللہ کا خلیفہ ہوں۔اگر وہ مجھے بادشاہ بھی بنا دیں گے تو وہ اس خطاب کے مقابلہ میں ادنی ہو گا۔تم فوراً جاؤ اور اس ممبر سے کہو کہ میں نے جو جواب دیا تھا وہ غلط تھا۔اگر آپ انہیں کوئی خطاب دیں گے تو وہ اسے اپنی ذلت اور ہتک سمجھیں گے۔اسی طرح ایک دفعہ حکومت کے ایک رکن نے میرے ایک سیکرٹری سے کہا کہ اب خطابات دیئے جانے کا سوال ہے۔اگر مرزا صاحب منظور کر لیں تو انہیں بھی کوئی خطاب دے دیا جائے تو انہوں نے کہ وہ آپ کا کوئی خطاب برداشت نہیں کریں گے۔اسی طرح ایک اور افسر نے ایک احمدی رئیس سے کہا کہ اب مربعے مل رہے ہیں اگر مرزا صاحب پسند کریں تو انہیں بھی کچھ مربعے دے دیئے جائیں۔انہوں نے مجھ سے اسی بات کا ذکر کیا تو میں نے کہا یہ تو میری ذلت اور ہتک ہے کہ میں حکومت سے کوئی انعام لوں۔اس کا تو یہ مطلب ہوگا کہ ہم پیسوں کے لئے سب کام کرتے ہیں۔“ 66 (الفضل ۱۳ فروری ۱۹۵۲ء)