خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 357
خلافة على منهاج النبوة ہو جاتا ہے اور ہم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔۳۵۷ جلد سوم یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ باوجود اس کے کہ عیسائیت کی خلافت اب محض ایک ڈھانچہ رہ گئی ہے اور وہ اپنی پہلی طاقت کو بالکل کھو چکی ہے پھر بھی عیسائیوں پر اس کا اتنا اثر ہے کہ وہ پوپ کی ناراضگی کو برداشت نہیں کر سکتے۔وہ اپنی ہلا کت دیکھ رہے ہیں ، وہ اپنی تباہی دیکھ رہے ہیں، وہ اپنی بربادی دیکھ رہے ہیں مگر یہ جرأت نہیں کر سکتے کہ پوپ کی رضامندی کے خلاف کوئی قدم اُٹھا سکیں۔تو دیکھو ایک جتھے کا نتیجہ کتنا عظیم الشان ہوتا ہے اور اس میں کتنی بڑی طاقت پائی جاتی ہے۔اسلام کا جتھا ایک زندہ جتھا ہے اور اسلام جس نظام کو قائم کرتا ہے اس کی بڑی غرض یہ ہے کہ روحانیت کو قائم کیا جائے ، اخلاق کو درست کیا جائے اور ذاتی منافع پر قومی منافع کو ترجیح دی جائے۔وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوی کی تعلیم دیتا ہے۔وہ اس لئے جتھا بنانے کی تعلیم نہیں دیتا کہ ذاتی فوائد حاصل کئے جائیں بلکہ وہ اس لئے جتھا بندی کی تعلیم دیتا ہے تا کہ تمام انسان مل کر نیکی اور تقویٰ پر قائم رہیں اور یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں مسلمانوں کو احمدیت کے ذریعہ دی ہے اور اس نے پھر ایک خلافت کا سلسلہ قائم کیا ہے جس کے ذریعہ وہ مسلمانوں کا ایک ایسا جتھا بنانا چاہتا ہے جو مل کر کفر کا مقابلہ کریں۔یہ چیز بظاہر بہت حقیر نظر آتی ہے، بظاہر بہت کمزور نظر آتی ہے اور دشمن یہ سمجھتا ہے کہ ہم جب چاہیں احمدیت کو کچل سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے پردہ پر جو ساٹھ کروڑ کے قریب مسلمان ہیں ان کو وہ نعمت حاصل نہیں جو ہماری چھوٹی سی جماعت کو حاصل ہے اور وہ ان تمام فوائد سے محروم ہیں جو اس چھوٹی سی جماعت کو خلافت کی وجہ سے حاصل ہورہے ہیں۔مثلاً تبلیغ کو ہی لے لو یہی چیز ہے جسے ہم مخالف کے سامنے پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہے ہیں مگر تم نے کبھی غور کیا کہ یہ تبلیغ کس طرح ہو رہی ہے ! یہ تبلیغ محض خلافت کی وجہ سے ہورہی ہے۔ایک مرکز ہے جس کے ماتحت وہ تمام لوگ جن کے دلوں میں اسلام کا درد ہے اکٹھے ہو گئے ہیں اور اجتما ہی طور پر اسلام کے غلبہ اور اس کے احیاء کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔وہ بظاہر چند افراد نظر آئے ہیں مگر اجتماعی طور پر ان میں