خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 356

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۶ جلد سوم رہا ہے تو وہ اس خیال سے خاموش بیٹھا رہے کہ یہ کسی اور کا بچہ ہے مگر جب وہ مر جائے تب اسے پتہ لگے کہ یہ تو میرا ہی بچہ تھا۔وہ بھی اس وقت بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس جھگڑے سے کیا واسطہ یہ تو ایک سیاسی جھگڑا ہے۔لیکن اگر سارے کے سارے لوگ کھڑے ہو جائیں اور وہ کہیں کہ یہ دہریت کی تعلیم دینے والے یہ انبیاء کو جھوٹا اور فریبی کہنے والے یہ الہام اور وحی کا انکار کرنے والے یہ الہامی کتابوں کو جھوٹا کہنے والے یہ خدا اور اس کے رسولوں کا نام دنیا سے مٹانے والے ہمارے دشمن ہیں۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کریں تو لازماً کمیونزم کو بھی مذہب کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور جب وہ مذہب کا مقابلہ کرے گی تو وہ لوگ بھی جو اپنے آپ کو پہلے بے تعلق سمجھا کرتے تھے اس لڑائی میں شامل ہو جائیں گے۔اور یہ لڑائی تلوار سے ہٹ کر دلیل کی طرف آ جائے گی۔اور اس میں کمیونزم کا شکست کھا جانا ایک قطعی اور یقینی چیز ہے۔یہ ایک اتنی موٹی بات ہے کہ یورپ کے تعلیم یافتہ تو الگ رہے ہندوستان اور افغانستان کے جاہل اور غیر تعلیم یافتہ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ مقابلہ کا اصل طریق یہی ہے مگر وہ کیوں ایسا نہیں کرتے ؟ ابھی پچھلے دنوں ان کے بعض نمائندے کراچی آئے جن کے سامنے ہمارے بعض دوستوں نے یہی بات پیش کی اور ان سے کہا کہ کیا آپ اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ آپ لوگ سیاسی لڑائی کر رہے ہیں حالانکہ سیاسی لڑائی میں آپ کا پہلو کمزور ہے کمیونزم کا اصل حملہ مذہب پر ہے باقی سب درمیانی راستے ہیں جو انہوں نے اپنے لئے بنائے ہوئے ہیں اور مذہب کے خلاف ان کا حملہ ویسا ہی عیسائیت پر ہے جیسا اسلام پر یا جیسے ہندو مذہب پر ہے یا جیسے بدھ ازم پر ہے یا جیسے دنیا کے اور مذاہب پر ہے اور جب حالت یہ ہے تو آپ تمام مذاہب والوں سے یہ اپیل کیوں نہیں کرتے کہ مسلمان بھی اور ہندو بھی اور بدھ بھی اور عیسائی بھی سب مل کر کمیونزم کا مقابلہ کریں۔یو۔این۔او کے ان نمائندوں نے جو امریکی تھے اور لاہور آئے ہوئے تھے ہماری جماعت کے دوستوں سے کہا کہ ہم یہ خوب سمجھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ کمیونزم سے مقابلہ کا سہل طریق یہی ہے کہ تمام مذاہب کو متحد کیا جائے مگر مصیبت یہ ہے کہ اس طرح پوپ ناراض