خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 358

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۸ جلد سوم ایسی قوت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ بڑے بڑے اہم کام سرانجام دے سکتے ہیں۔جس طرح آسمان سے پانی قطروں کی صورت میں گرتا ہے پھر وہی قطرے دھاریں بن جاتے ہیں اور وہی دھاریں ایک بہنے والے دریا کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اسی طرح ہمیں زیادہ سے زیادہ طاقت اور شوکت حاصل ہوتی چلی جاتی ہے ورنہ ہمارے احمدی جہاں تک ہمیں معلوم ہے پاکستان اور ہندوستان میں اڑھائی تین لاکھ سے زیادہ نہیں اور مسلمان ساری دنیا میں ساٹھ کروڑ ہیں۔ساٹھ کروڑ اور اڑھائی تین لاکھ کی آپس میں کوئی بھی تو نسبت نہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہم سے دو ہزار چار سو گنے زیادہ ہیں اور پھر یہ زیادتی تو تعداد افراد کے لحاظ سے ہے مالی طاقت اور وسعت کو دیکھا جائے تو وہ ہم سے کئی گنا بڑھ کر ہیں۔ہم ایک غریب جماعت ہیں اور وہ اپنے ساتھ بادشاہتیں رکھتے ہیں اس لحاظ سے تو درحقیقت وہ ہم سے دس گنا بڑھ کر ہیں لیکن اگر کم سے کم ان کی طاقت کو ہم دُگنا بھی فرض کر لیں تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ غیر احمدیوں کی طاقت ہم سے پانچ ہزار گنا زیادہ ہے۔یعنی ہماری جماعت اگر تبلیغی مشنوں پر پانچ لاکھ روپیہ خرچ کرتی ہے تو مسلمانوں کو اڑھائی ارب روپیہ خرچ کرنا چاہئے۔گویا مسلمانوں کی ہمارے مقابلہ میں اگر محض دُگنی طاقت ہو جو کسی صورت میں بھی درست نہیں ان کا مال اور ان کی دولت یقیناً بہت زیادہ ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی بعض ایسے مسلمان تاجر موجود ہیں جو ا کیلے اکیلے ہماری جماعت کی تمام جائیدا دخرید سکتے ہیں۔پس دراصل تو ان کی مالی طاقت فرد فرد کی نسبت سے ہم سے کئی گنا زیادہ ہے لیکن اگر دُگنی بھی فرض کی جائے تب بھی اڑھائی ارب روپیہ سالانہ انہیں تبلیغ کے لئے خرچ کرنا چاہئے لیکن وہ اڑھائی لاکھ بھی نہیں خرچ کرتے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلافت کی نعمت عطا کی ہے جس سے وہ لوگ محروم ہیں۔اس خلافت نے تھوڑے سے احمدیوں کو بھی جمع کر کے انہیں ایسی طاقت بخش دی ہے جو منفردانہ طور پر کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔یوں تو ہر جماعت میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور ایسے طاقتور بھی ہوتے ہیں جوا کیلے تمام بوجھ کو اُٹھا لیں مگر تمام افراد کو ایک رسی سے باندھ دینا محض مرکز کے ذریعہ ہوتا ہے۔مرکز کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ