خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 350

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۰ جلد سوم خدا تعالیٰ جس شخص کو خلافت پر کھڑا کرتا ہے وہ اس کو اپنے مطلب کے حافظے بھی دیا کرتا ہے اور اس کو زمانہ کے مطابق علوم بھی عطا کرتا ہے۔اگر وہ احمق ، جاہل اور بے وقوف ہوتا ہے جیسے یہ لوگ خیال کرتے ہیں تو اس کے کیا معنی ہیں کہ خلیفہ خود خدا بنا تا ہے۔اس کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جب کسی کو خدا خلیفہ بناتا ہے تو اسے اپنی صفات بخشتا ہے اگر وہ اسے اپنی صفات نہیں بخشا تو خدا تعالیٰ کے خود خلیفہ بنانے کے معنی ہی کیا ہیں۔اسی قسم کے کئی احمق کہا کرتے ہیں کہ فلاں نبی نے فلاں غلطی کی ہے۔میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اگر اس نبی نے غلطی کی ہے تو خدا تعالیٰ نے اسے نبی کیوں بنا دیا وہ تمہیں نبی بنا دیتا۔جیسے آجکل بعض ترقی پسند مسلمان بھی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق بعض ناقص انتظام کئے تھے۔ہم چونکہ ترقی یافتہ اور متمدن لوگ ہیں ہمیں اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق انتظام کرنا چاہئے حالانکہ سوال یہ ہے کہ کیا خدا تعالیٰ بھی بیوقوف تھا جس نے تمہاری موجودگی میں نبوت محمد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدی۔اگر نَعُوذُ بِاللهِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے اہل نہیں تھے تو خدا تعالیٰ نے آپ کو نبوت کا مقام کیوں عطا فر مایا۔یہ تو ایسا ہی احمقانہ عقیدہ ہے جیسے بعض غالی شیعہ کہتے ہیں کہ نبوت جبرائیل علیہ السلام حضرت علی کیلئے لائے لیکن غلطی سے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی کیونکہ آپ دونوں ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔پس یہ بات تو درست نہیں کہ خلیفہ بے وقوف ہے۔خلیفہ خدا کا بنایا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے اپنی طاقتوں سے بھی حصہ دیا ہاں وہ مومن جو اس قسم کے منافقوں کی باتوں سے دھوکا میں آجاتا ہے وہ ضرور بے وقوف ہوتا ہے اس کے سامنے جب ایک شخص اس کی ڈاڑھی نو چتا ہے وہ خلیفہ کو پیچدار الفاظ میں احمق کہتا ہے اور وہ واہ واہ کرتا جاتا ہے اور اپنے ذہن میں یہ سمجھتا ہے کہ اس نے بڑے اخلاص کا ثبوت دیا ہے حالانکہ جب اس کی تشریح کی جائے تو یہ اخلاص کا ثبوت نہیں ہوتا عدم اخلاص کا ثبوت ہوتا ہے کیونکہ اس کو اتنی بھی سمجھ نہیں کہ اس گالی کو سمجھ سکے جہاں اخلاص ہوتا ہے وہاں اس قسم کی باتوں کے سمجھنے کی طاقت بھی ہوتی ہے“۔الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۵۰ء )