خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 351

خلافة على منهاج النبوة ۳۵۱ جلد سوم خلافت ایک عظیم الشان نعمت ہے ( فرموده ۲ / مارچ ۱۹۵۱ء بمقام ناصر آ با دسندھ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔دو مجھے اس دفعہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ سندھ کی جماعتوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ وہ میرے اس دورہ کے موقع یہاں آئیں اور جمعہ کی نماز اس جگہ ادا کریں چنا نچہ دونوں جمعوں میں مختلف اطراف سے جماعت کے احباب جمعہ کی نماز کے لئے یہاں آئے جو ایک خوش کن امر ہے۔زندہ قوموں کے اندر کچھ زندگی کی علامتیں ہوتی ہیں اور وہ علامتیں ہی یہ بتاتی ہیں کہ ان کے اندر زندگی کی روح پائی جاتی ہے۔وہ علامتیں نہ ہوں تو ان کا زندہ ہونا ایک مشتبہ امر ہوتا ہے۔کیونکہ قومی زندگی انسانی زندگی کی طرح نہیں کہ ہم کسی کو سانس لیتا دیکھیں تو سمجھیں کہ وہ زندہ ہے۔چلتے پھرتے دیکھیں تو سمجھیں کہ وہ زندہ ہے۔قومی زندگی کی علامتیں فردی زندگی سے مختلف ہوتی ہیں۔قومی زندگی کی علامتوں میں ترقی کی نیت اور اُمنگ اور امیدیں اور اصلاح کی طرف توجہ اور جماعتی روح اور نظام کی روح وغیرہ شامل ہیں اور یہی چیزیں قومی زندگی کی علامت ہوتی ہیں جس طرح فردی زندگی کی علامتوں میں دیکھنا ،سننا ، بولنا ، کھانا ، سانس لینا اور فضلے کا خارج کرنا ہے اور ان علامتوں کو دیکھ کر ہم سم سمجھ لیتے ہیں کہ ایک چیز زندہ ہے۔اسی طرح جب ہم کسی جماعت کے اندر یہ دیکھتے ہیں کہ اس میں ترقی کا احساس پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت کے قیام کے لئے اس میں قربانی کا احساس پایا جاتا ہے ، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کا احساس اس میں پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے ایک حصہ