خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 349

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۹ جلد سوم تم اگر خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں ہمیشہ کی زندگی بخشے گا خطبه جمعه فرموده ۳ / نومبر ۱۹۵۰ء بمقام ربوه) دفا تر تحریک جدید میں بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو وقف سے بھاگنا چاہتے ہیں۔وہ ایسی رپورٹیں کر کے اپنے بھاگنے کے لئے رستہ کھولنا چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے مثالیں قائم ہو جائیں اور وہ بھی وقف سے بھاگ سکیں۔اس قسم کے منافق لوگ جب دیکھتے ہیں کہ مخاطب مخلص احمدی ہیں اور اگر انہیں یہ بتایا کہ خلیفہ بھی ایسا ہے تو وہ بگڑ جائیں گے۔اس لئے وہ کہہ دیتے ہیں خلیفہ وقت کو تو ان باتوں کا پتہ ہی نہیں۔گویا وہ تو بھنگ پینے والا ایک مست آدمی ہے اسے کیا پتہ ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور یہ احمدی یہ نہیں سمجھتے کہ جب وہ منافق یہ کہتا ہے کہ دفتر والے خلیفہ وقت کے پاس غلط رپورٹیں کرتے ہیں تو وہ کارکنوں کو بے ایمان اور ذرا نرم لہجہ میں خلیفہ کو احمق کہتا ہے اور وہ لوگ یہ سن کر کہ اس منافق نے خلیفہ کو احمق کہا ہے بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن وہ خلیفہ ہے کس کام کا جو لوگوں کی کچی جھوٹی باتیں سن کر ایک فیصلہ کر دیتا ہے وہ دفتر کا ایک چپڑاسی بننے کے قابل بھی نہیں کجا یہ کہ خلافت کا کام اس کے سپر د کیا جائے۔وہ لوگ زندہ موجود ہیں جو جانتے ہیں کہ بعض دفعہ مجلس میں پرائیویٹ سیکرٹری تین تین ماہ بعد ایک خط پیش کرتا اور کہتا کہ اس میں فلاں آدمی یہ بات لکھتا ہے اور میں کہتا یہ بات غلط ہے لا ؤ خط نکالو۔پھر وہ خط نکالتا تو جو میں کہتا وہ صحیح ہوتا اور جو اس نے کہا ہوتا وہ غلط ہوتا