خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 345
خلافة على منهاج النبوة ۳۴۵ جلد سوم پھر حضرت عثمان کا زمانہ آیا تو وہ بھی اپنے وقت کے بہترین انسان ثابت ہوئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ شہید ہوئے لیکن ان کی شہادت کے واقعات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سینے میں ایک مضبوط دل تھا اور ان کے اندر وہ دلیری اور حوصلہ پایا جاتا تھا جو عام انسانی برداشت سے بالکل باہر ہے۔پھر حضرت علیؓ نے اپنے زمانہ میں جو کام کیا وہ درحقیقت حضرت علیؓ کا ہی حصہ تھا اور کوئی دوسرا شخص اس کام کو سر انجام نہیں دے سکتا تھا۔خوارج کے فتنہ کا عملی اور علمی مقابلہ جو حضرت علیؓ نے کیا وہ ایک بے نظیر کام ہے۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سرداری کی اور اپنے اپنے وقت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کلی طور پر نیابت کی۔لیکن اس قسم کے اور واقعات بھی کثرت سے چھوٹے صحابہ میں پائے جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں علم دین کے ماہر تھے وہاں آپ کو علم النفس میں بھی کمال کی دسترس حاصل تھی۔آپ جانتے تھے کہ کس طرح قوموں کو بیدار کیا جاتا ہے اور کس طرح انہیں کار ہائے نمایاں دکھانے کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔آپ بعض دفعہ مثلاً تلوار ہاتھ میں لے لیتے اور صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کرتے یہ تلوار ہے کون ہے جو اس تحفہ کا حق ادا کرے؟ صحابہ باری باری کھڑے ہوتے اور اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کرتے۔آخر آپ ان میں سے اس شخص کو پہچان لیتے جو اس تلوار کا حق ادا کرنے والا ہوتا اور اسے وہ تلوار عنایت فرما دیتے۔پھر وہ لوگ عجیب عجیب قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسی قربانیاں کہ ان واقعات کو پڑھ کر دل میں ایک خاص جوش پیدا ہوتا ہے اور مردہ لوگوں میں بھی زندگی کا خون دوڑ نے لگتا ہے۔پھر یہی واقعات دنیا کی عام تاریخ میں بھی ملتے ہیں۔غرض’ہر کا رے و ہر مردے اور ہر وقتے و ہر سخنے بڑا ہی صحیح مقولہ ہے خدا تعالیٰ اپنی ساری برکتیں کسی ایک شخص کے لئے مخصوص نہیں کر دیتا۔اس کی نظر عنایت ہزاروں ہزار پر ہے۔کسی موقع پر وہ کسی کو آگے آنے کا موقع دے دیتا ہے اور کسی وقت کسی کو آگے آنے کا موقع دیتا ہے۔حضرت ابو بکر کتنی زیادہ مالی قربانی کرنے والے تھے لیکن ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنگ کی تیاری کے لئے روپیہ کی ضرورت پیش آئی اور آپ نے۔