خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 344

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۴ جلد سوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ رسی کا ایک ٹکڑا بھی بطور زکوۃ دیتے تھے تو میں وہ بھی ان سے ضرور وصول کروں گا۔سے پھر آپ نے فرمایا عمر ! اگر تم لوگ ڈرتے ہو تو بیشک چلے جاؤ میں اکیلا ہی ان لوگوں سے لڑوں گا اور اُس وقت تک نہیں رکوں گا جب تک اپنی شرارت سے باز نہیں آ جاتے۔چنانچہ لڑائی ہوئی اور آپ ہی فاتح ہوئے اور اپنی وفات سے پہلے پہلے آپ نے دوبارہ سارے عرب کو اپنے ماتحت کر لیا۔غرض حضرت ابو بکر نے اپنی زندگی میں جو کام کیا وہ انہی کا حصہ تھا کوئی اور شخص وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔مگر یہی عمر جو ابو بکر کی خلافت میں ایک خطرہ کی حالت میں ڈر گئے تھے اور جنہوں نے حضرت ابو بکر سے یہ درخواست کی تھی کہ لڑائی کرنے کی بجائے صلح کر لی جائے جب ان کا اپنا زمانہ آتا ہے تو جو کام انہوں نے کیا وہ انہی کا حصہ تھا ان کا غیر وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔وہی ارتداد کے فتنہ سے ڈر جانے والا عمر جب خلافت کے مسند پر آتا ہے اس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں۔آدھی دنیا پر ایران قابض تھا اور آدھی دنیا پر روم کی سلطنت تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں لڑائیاں ہوئیں اور حضرت ابوبکر کے زمانہ میں پھیل گئیں لیکن پھر بھی وہ اس شدت کو نہیں پہنچی تھیں جس شدت کو وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پہنچیں۔حضرت عمرؓ کو یہ خبر پہنچی کہ ایرانیوں نے مسلمانوں پر چھاپہ مارا ہے لوگوں نے کہا یہ وقت نازک ہے روم سے لڑائی ہو رہی ہے اور ایران کی حکومت بھی حملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہی ہے اس وقت ہمیں اس جھگڑے کو نظر انداز کر دینا چاہئے ایران سے لڑائی کرنے کا یہ موقع نہیں کیونکہ ایک وقت میں دنیا کی دو بڑی سلطنتوں سے لڑائی کرنا ہمارے لئے آسان نہیں۔لیکن حضرت عمر نے فرمایا کہ میں اسلام کو ذلیل نہیں ہونے دوں گا میں ایک ہی وقت میں دونوں کا مقابلہ کروں گا۔ایران میں جسر کی خطر ناک شکست کے بعد جب مسلمانوں کا سارا لشکر تہ تیغ ہو گیا تھا اور باقی لشکر شام کی طرف گیا ہوا تھا۔مدینہ سے صرف تین سو آدمی مل سکتے تھے مگر حضرت عمرؓ نے کہا میں ان تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر ہی ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے جاؤں گا۔مگر اُس وقت حضرت علیؓ اور دوسرے صحابہ کے اصرار کے بعد آپ خود جانے۔رُک گئے مگر تھوڑے سے لشکر کو ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے بھجوا دیا۔