خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 346

خلافة على منهاج النبوة ۳۴۶ جلد سوم فرمایا کہ کوئی ہے جو اپنے مال سے جنت خریدنا چاہے۔تو خدا تعالیٰ نے حضرت عثمان کو موقع دے دیا گے اور آپ نے اپنا اکثر مال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا۔وہ مال کوئی بارہ ہزار دینار کے قریب تھا جو آجکل کے لاکھوں روپے کے برابر ہے۔غرض ہر وقت اور ہر زمانہ کے لئے کوئی نہ کوئی مخصوص شخص ہوتا ہے جسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسی برکات حاصل ہو جاتی ہیں کہ وہ اپنے زمانہ کے لئے بطور یادگار بن جاتا ہے۔اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مبعوث ہوئے۔آپ کے ماننے والوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دین کی خاص خدمت کی اور اس کی خاطر وہ وہ قربانیاں کیں جنہیں دیکھ کر ہماری قوم تا قیامت زندہ رہ سکتی ہے۔کوئی شخص جب سید عبداللطیف شہید کی قربانیوں کو دیکھے گا تو وہ کہے گا کہ میں بھی عبد اللطیف شہید بنوں گا۔کوئی حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کے واقعات زندگی کو دیکھے گا تو اس کے اندر آپ جیسا انسان بننے کی خواہش موجزن ہوگی۔کوئی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے حالات کو پڑھے گا تو وہ ان جیسا بننے کی کوشش کرے گا۔کوئی مولوی برہان الدین صاحب اور مولوی محمد عبد اللہ صاحب سنوری کے واقعات پڑھے گا تو کہے گا کہ کاش ! وہ بھی ان جیسا بن جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگوں نے بعد میں ٹھوکریں بھی کھائیں لیکن ہم ان کی قربانیوں اور ان کے بے مثال کارناموں کو بھول نہیں سکتے۔خدا تعالیٰ جیسا چاہے ان سے معاملہ کرے۔ہمارا کام یہی ہے کہ ان کی قربانیوں کو نہ بھولیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب نے بے شک بعد میں ٹھو کر کھائی اور حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی وفات کے بعد پیغامی ہو گئے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی دینی خدمات اور قربانیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے خاص محبت تھی۔میں نے کئی دفعہ رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہیں لیکن شیخ رحمت اللہ صاحب کی طرف کنکھیوں سے محبت سے دیکھ رہے ہیں۔ان کے متعلق میں نے بھی ایک رؤیا دیکھا تھا جو اس بات پر دلالت کرتا تھا کہ وہ ٹھوکر کھا جائیں گے پس گوانہیں بعد میں ٹھوکر لگی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اپنے وقت میں دین کی