خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 326
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۶ جلد سوم اختیار حاصل ہے یا نہیں کہ آپ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں ؟ میں نے کہا اختیار تو ہے مگر میں اس اختیار کو استعمال کرنا نہیں چاہتا۔اور آئندہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ حالات کیا صورت اختیار کریں۔غرض ان کی ساری کوشش اسی امر پر مرکوز رہی کہ میں یا تو اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کے متعلق کہہ دوں کہ میرے بعد وہ خلیفہ ہو گا یا دنیا کے لحاظ سے ان کی نگاہ چونکہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر پڑ سکتی تھی اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اگر کوئی رشتہ دار خلیفہ نہ ہوا تو شاید وہ ہو جائیں میں نے انہیں کہا کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں انتخاب کرتا پھروں یہ خدا کا کام ہے اور میں تو محض سلسلہ کے ایک خادم کے طور پر کام کر رہا ہوں غرض ہم میں سے کوئی بھی نہیں جسے اس قسم کا اختیار حاصل ہو ہمیں جو حکومت حاصل ہے وہ شریعت کے ماتحت اولی الامر ہونے کے لحاظ سے ہے پس جتنا امر ہو گا اتنی ہی حکومت ہوگی اور جو شخص اس حکومت کے دائرہ کو وسیع کرے گا وہ نظام کا دشمن قرار پائے گا۔پس عام دنیوی معاملات میں دوسروں سے یہ کہنا کہ میں تو ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں نظارت کے جامہ کی ہتک ہے وہاں وہ ناظر نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت رکھے گا اور اسے دوسروں پر کوئی تفوق حاصل نہیں ہوگا اسلام میں اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خلفاء پر دیوانی نالشیں ہوئیں اور انہیں قضا میں جواب کے لئے بلایا گیا۔اب فرض کرو کہ کسی کو میرے خلاف کوئی شکایت ہو مثلاً وہ کہے کہ انہوں نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے مگر دیتے نہیں یا اتنا دیا ہے اور اتنا نہیں دیا تو اسے اس بات کا پورا حق ہے کہ وہ اگر چا ہے تو قضا میں میرے خلاف دعوی دائر کر دے وہاں مجھے اسی طرح جواب دینا پڑے گا جس طرح ایک عام شخص قضا کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے لیکن جہاں خدا نے مجھے کوئی حق دیا ہے وہاں وہ میرا حق چھین نہیں سکتا۔پس جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ نظام کی برکتیں اس کی پیچیدگیوں کو حل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ورنہ نظام کے لفظ کا اندھا دھند استعمال خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔جیسے ہمارے مختار نے ایک زمین کے معاملہ میں دوسرے سے کہہ دیا کہ تمہارا مقابلہ خلیفہ اسیح سے ہے حالانکہ وہاں خلافت کا کوئی سوال نہ تھا بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں