خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 325
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۵ جلد سوم ہے۔میں نے اس وقت اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا ان رشتہ داروں میں میرے بزرگ بھی تھے ، میرے برابر کے بھی تھے اور مجھ سے چھوٹے بھی تھے۔نانا جان صاحب مرحوم بھی موجود تھے میرے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب بھی موجود تھے اسی طرح میرے چھوٹے بھائی بھی تھے اور گھر کے دوسرے افراد بھی۔میں نے ان سب کو جمع کر کے کہا کہ دیکھو یہ وقت ایسا نہیں کہ ہم ذاتیات کا سوال لے بیٹھیں اس وقت جو لوگ خلافت کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں یہ وہم ہو گیا ہے کہ چونکہ خلافت سے ہم فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں اس لئے ہم یہ جھگڑا پیدا کر رہے ہیں۔یہ وہم خواہ کیسا ہی غلط اور بے بنیاد ہو ہمیں اپنے وجود سے سلسلہ میں تفریق پیدا نہیں کرنی چاہیے اور اگر وہ اس بات پر متفق ہوں کہ کسی نہ کسی کو ضر و ر خلیفہ ہونا چاہئے تو اول تو یہی مناسب ہے کہ اس کے متعلق لوگوں کی عام رائے لے لی جائے لیکن اگر انہیں اس سے اتفاق نہ ہو تو ایسے لوگوں کو چھوڑ کر جیسے خواجہ کمال الدین صاحب یا مولوی محمد علی صاحب ہیں کسی ایسے آدمی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہوا اور اگر وہ اسے بھی نہ مانیں تو پھر ان لوگوں میں سے ہی کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔میں نے اس پر اتنا زور دیا کہ میں نے اپنے رشتہ داروں سے کہا اگر آپ لوگ میری اس بات کو نہیں مانتے تو میں پھر باہر جاتا ہوں اور باہر جا کر عام لوگوں کے سامنے اپنی اس بات کو پیش کر دیتا ہوں نتیجہ یہ ہوا کہ سب میری بات پر متفق ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ اوّل تو یہی کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں فریق کسی ایسے آدمی کے ہاتھ پر اکٹھے ہوں جو واضح طور پر گزشتہ جھگڑوں میں شامل نہ ہوا ہو اور جو دونوں کے نزدیک بے تعلق ہو۔اور اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر اتحاد کے خیال سے انہی لوگوں میں سے کسی کو منتخب کر لیا جائے تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے تو حضرت خلیفہ المسیح اول کی وفات پر بھی خلیفہ کے انتخاب میں اس حد تک دخل دیا تھا اور کسی کا نام بالتصریح نہیں لیا تھا پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ اب میں کسی کا نام لے لونگا اور اس کے متعلق کہہ دوں گا کہ وہ میرے بعد خلیفہ ہو گا۔پھر اس میں میری مرضی کا بھی سوال نہیں۔ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جب خلیفہ بنانا خدا نے اپنے ذمہ لے لیا ہوا ہے تو میرا اس میں دخل دینا کیسی حماقت ہوگی پھر اس نے کہا کہ کیا آپ کو یہ