خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 327
خلافة على منهاج النبوة ۳۲۷ جلد سوم میری طرف سے ایک سودا ہو رہا تھا۔اور ایسی صورت میں دوسرے فریق کا حق تھا کہ وہ اگر چاہتا تو زیادہ قیمت پر دوسرے کو دے دیتا۔اگر میں لوگوں کو وعظ ونصیحت کرتا ہوں تو میری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے اگر میں جماعت کو کوئی حکم دیتا ہوں تو میری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے لیکن اگر میں اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے کوئی زمین خریدتا ہوں تو اس میں میری حیثیت خلیفہ کی نہیں ہوتی اور دوسرا اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ سودے سے انکار کر دے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے تر کاری بکنے لگے تو ایک طرف سے میرا آدمی ترکاری لینے کے لئے چلا جائے اور دوسری طرف سے جماعت کا کوئی اور آدمی۔اب ایسے موقع پر اگر میرا آدمی دوسرے سے یہ کہے کہ تم تر کاری مت خرید و کیونکہ خلیفہ المسیح یہ تر کاری لینا چاہتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی کیونکہ جیسے میرا حق ہے کہ ترکاری لوں اسی طرح اس کا حق ہے کہ وہ تر کاری لے۔اگر وہ پہلے پہنچ جاتا ہے تو یقیناً اسی کا حق ہے۔گوبعض دفعہ شریفانہ رنگ میں ایک دوسرے کی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا جا سکتا ہے۔اگر اس کی ضرورت زیادہ اہم ہوگی تو میرا آدمی اپنا حق چھوڑ سکتا ہے اور اگر میرے آدمی کی ضرورت زیادہ ہوگی تو دوسرا اپنا حق۔چھوڑ سکتا ہے۔پس جماعت کے عہدیداروں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر چیز کو اس کی حد کے اندر رکھو اگر تم اسے حد سے بڑھا دو گے تو وہ چیز خواہ کتنی ہی اعلیٰ ہو بُری بن جائے گی۔ایک شاعر کا ایک شعر ہے جو مجھے یاد تو نہیں رہا مگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ تل بڑی خوبصورت چیز ہے لیکن جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو منہ بن جاتا ہے۔پس ہر چیز کو اس کی حد کے اندر رکھو۔نظام کو بھی اور انفرادی معاملات کو بھی اور کبھی اپنے عہدوں کا نام لے کر ذاتی معاملات میں دوسروں (الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۶۰) پر رعب نہ ڈالو۔“ ام النساء: ۶۰ بخاری کتاب الاحكام باب قول الله تعالى أطِيعُوا اللَّهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُولَ صفحه ۱۲۲۸، ۱۲۲۹ حدیث نمبر ۱۳۷ے مطبوعہ ریاض ۱۹۹۹ ء الطبعة الثانية