خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 318

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۸ جلد سوم کا کہاں حکم ہے؟ سو ایسے لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ خلیفہ رسول کا قائم مقام ہوتا ہے۔چنانچہ خلیفہ کے معنی نائب کے ہیں مگر وہ نائب اور قائم مقام اولی الامر کا نہیں بلکہ رسول کا ہوتا ہے۔پس قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔اور جب رسول فوت ہو جائے تو تم اس کے خلیفہ کی اطاعت کرو۔اور اس زمانہ میں اُولی الامر کی بھی اطاعت کرو۔کیونکہ کوئی نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک خلیفہ کے مقرر کردہ عہد یداروں کی اطاعت لوگ اپنے لئے ضروری خیال نہ کریں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے مقرر کردہ حاکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ حاکم کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی کیونکہ میں ہر جگہ نہیں پہنچ سکتا۔مجھے لازماً کام کو عمدگی سے چلانے کے لئے اپنے نائب مقرر کرنے پڑیں گے۔اور لوگوں کے لئے ضروری ہوگا کہ ان کی اطاعت کریں اگر وہ اطاعت نہیں کریں گے تو نظام ٹوٹ جائے گا۔پس ان کی اطاعت در حقیقت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی۔تو اَطِيْعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ میں ایک ایسا مکمل نظام پیش کیا گیا ہے جس کے تحت ایک ہی زمانہ میں اللہ کی اطاعت بھی ضروری ہے رسول کی اطاعت بھی ضروری ہے اور اگر رسول نہ ہو تو اس کے خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے اور اس زمانہ میں اُولی الامر کی اطاعت بھی ضروری ہے۔اللہ ایک ہے رسول ایک ہے خلیفہ بھی ایک ہی ہوگا۔لیکن اُولی الامر کئی ہو سکتے ہیں۔اس لئے اُولی الامر میں جمع کا صیغہ رکھا گیا ہے کیونکہ یہ کئی ہوں گے اور گو خلیفہ ایک ہو گا مگر اس کے تابع بہت سے عہد یدار ہوں گے۔یہ اسلامی نظام ہے جسے قرآن کریم پیش کرتا ہے اور وہ اُمت محمدیہ کو حکم دیتا ہے کہ أولي الامر کی اطاعت کرو۔لیکن اس میں بعض دفعہ ایک بگاڑ بھی پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ غلطی سے اولی الامر یہ خیال نہیں کرتے کہ لوگوں پر ان کی جو اطاعت فرض ہے وہ أولي الأمر ہونے میں ہے زید اور بکر ہونے میں نہیں۔زید اور بکر ہونے میں تو رسول کی