خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 317

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۷ جلد سوم موجود۔کے لئے ان کی اطاعت واجب کر دیتا ہے۔بعض لوگ غلط فہمی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف خلیفہ ہی واجب الاطاعت ہوتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم نے صاف طور پر ایسا نظام بتایا ہے جس میں صرف خلیفہ ہی نہیں بلکہ خلیفہ کے مقرر کردہ عہد یدار بھی واجب الاطاعت ہوتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا الله واطِيعُوا الرَّسُول و اولى الأمْرِ مِنكُمْ ، اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ جیسا کہ کئے گئے ہیں کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کے بعد اولی الامر کی مگر اس کے معنی یہ بھی ہیں بلکہ قریب ترین معنی یہی ہیں کہ تم اللہ کی اطاعت کرو۔تم رسول کی اطاعت کرو اور تم اس زمانہ کے اُولی الامر کی بھی اطاعت کرو گویا اللہ بھی موجود اور رسول بھی جود ہے اور اولی الامر کی اطاعت بھی ضروری ہے اور یہ وہ معنی ہیں جن کی قرآن کریم کی متعدد آیات سے تصدیق ہوتی ہے۔مثلاً جہاں خبروں کے پھیلانے کا ذکر ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ کیوں تم ان لوگوں تک خبریں نہیں پہنچاتے جو بات کو سمجھنے کے اہل ہیں اور جن کے سپر د اس قسم کے امور کی نگرانی ہے گویا وہ ایک جماعت تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھی اور لوگوں کو حکم تھا کہ بجائے پبلک میں غیر ذمہ دارانہ طور پر خبریں پھیلانے کے اسے پہنچائی جائیں۔پس یہ آیت بتاتی ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو عام لوگوں سے ایک امتیاز رکھتے تھے اور لوگوں کو حکم تھا کہ وہ ضروری باتیں ان تک پہنچائیں۔پھر ایک اور دلیل اس بات پر کہ اولی الامر کی اطاعت اللہ اور رسول کی موجودگی میں ہی ضروری ہے یہ ہے کہ اللہ کے بعد رسول کی اطاعت نہیں ہوتی بلکہ اُس کی موجودگی میں ہی رسول کی اطاعت ضروری ہوتی ہے۔یہ معنی نہیں ہیں کہ اللہ تعالٰی نَعُوذُ باللہ فوت ہو جائے تو تم رسول کی اطاعت کرو اور رسول فوت ہو جائے تو اولي الامر کی اطاعت کرو بلکہ اللہ کی موجودگی میں رسول کی اطاعت کا حکم ہے۔اسی طرح رسول کی موجودگی میں ہی اُولی الامر کی اطاعت اور ان کی فرمانبرداری کا حکم ہے م ہے۔ممکن ہے کہ کوئی اعتراض کر دے کہ رسول کی اطاعت کا تو حکم ہوا مگر خلیفہ کی اطاعت