خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 315

خلافة على منهاج النبوة ۳۱۵ جلد سوم ایک کلائی دوسری کے اوپر ہے اور دایاں ہاتھ بائیں طرف کر دیا گیا ہے اور بایاں دائیں طرف کر دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ ایک کمان دونوں ہاتھوں پر رکھی گئی ہے اور اس کے ایک سرے سے ایک ہاتھ کی انگلیاں اور دوسرے سرے سے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں باندھ دی گئی ہیں۔دوسرے آدمی کو کس طرح قید کیا گیا ہے میں اچھی طرح نہیں دیکھ سکا۔پھر فرشتہ نے مجھے اشارہ کیا کہ باہر آ جاؤ۔یہ خواب جب میں نے دیکھا یہ لوگ ابھی پوشیدہ تھے اور اندر ہی اندر اتحاد عالمین کے نام سے اپنی گدی بنانے کی سکیمیں بنارہے تھے۔ان کے اندر خود پسندی اور خودستانی تھی اور اپنی ولایت بگھارتے پھرتے تھے۔لوگوں سے کہتے تھے کہ ہم سے دعائیں کراؤ۔حالانکہ خلافت کی موجودگی میں اس قسم کی گدیوں والی ولایت کے کوئی معنی ہی نہیں۔جیسے گوریلا وار کبھی جنگ کے زمانہ میں نہیں ہوا کرتی۔چھاپے اسی وقت مارے جاتے ہیں جب با قاعدہ جنگ کا زمانہ نہ ہو۔خلفاء کے زمانہ میں اس قسم کے ولی نہیں ہوتے۔نہ حضرت ابوبکر کے زمانہ میں کوئی ایسا ولی ہوا۔نہ حضرت عمر یا عثمان یا حضرت علی کے زمانہ میں۔ہاں جب خلافت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ نے ولی کھڑے کئے کہ جولوگ ان کے جھنڈے تلے جمع ہوسکیں انہیں کر لیں تا قوم بالکل ہی تتر بتر نہ ہو جائے۔لیکن جب خلافت قائم ہو اس وقت اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔جیسے جب منتظم فوج موجود ہو تو گوریلا جنگ نہیں کی جاتی۔“ ( الفضل ۶ ارجون ۱۹۴۰ء )