خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 316
خلافة على منهاج النبوة ٣١٦ جلد سوم خلیفہ وقت کے مقرر کردہ عہدیداروں کی اطاعت بھی ضروری ہے ( خطبه جمعه فرمود ه ۳ استمبر ۱۹۴۰ء بمقام قادیان) سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔نظام جہاں اپنے اندر بہت سی برکات رکھتا ہے اور دینی اور دنیوی ترقیات کے لئے ایک نہایت ضروری چیز ہے وہاں اس میں بہت سی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں اور جتنا نظام بڑھتا چلا جاتا ہے اتنی ہی اس میں پیچیدگیاں بھی بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اس کے مقابلہ میں جتنی کوئی چیز منفرد او را کیلی ہو اتنی ہی وہ سادہ ہوتی ہے۔پس جہاں نظام کے ذریعہ قوموں اور مذہبوں کو فوائد پہنچتے ہیں وہاں اس کی وجہ سے بعض دفعہ غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں اور جو لوگ نظام سے سچا فائدہ اُٹھانا چاہیں ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ان غلطیوں کی اصلاح کریں اور اصلاح کرتے چلے جائیں۔اگر ان غلطیوں کی وہ اصلاح نہ کریں تو آہستہ آہستہ وہی نظام جو نہایت مفید ہوتا ہے کسی وقت لوگوں کے لئے عذاب بن جاتا ہے۔یہ جو آجکل ڈکٹیٹر شپ، نازی ازم اور فیسی ازم رائج ہیں یہ بھی نظام کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔یہ جو کمیونزم اور بالشوزم کہلا تے ہیں یہ بھی نظام کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔ہیں وہ نظام ہی لیکن ان کی کل ٹیڑھی چل گئی اور کل کے بگڑ جانے کی وجہ سے ان میں ایسی خرابیاں پیدا ہو گئیں کہ وہ دنیا کے لئے مصیبت اور عذاب بن گئے۔اسلام نے بھی ایک نظام قائم کیا ہے اور ہمارا دعویٰ ہے کہ وہ نہایت ہی اعلیٰ نظام ہے مگر جس طرح باقی نظام پیچیدہ ہیں ویسے ہی وہ بھی پیچیدہ ہے۔چنانچہ اُمت مسلمہ میں سے ہی وہ ایک گروہ کو اٹھاتا ہے اور اسے اٹھا کر دوسروں