خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 311
خلافة على منهاج النبوة ۳۱۱ جلد سوم سارے غیر مبائعین ایسے ہی ہوں آخر ان میں شریف اور نیک لوگ بھی ہیں تبھی بعض شریف الطبع لوگ ان سے علیحدہ ہو کر ہم میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔پس اس قسم کی عداوت رکھنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو بڑے بڑے معاندین کو بھی ہدایت نصیب ہو جاتی ہے۔ابھی سیالکوٹ میں ایک دوست احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔شیخ روشن الدین صاحب تنویر ان کا نام ہے اور وکیل ہیں۔جب مجھے ان کی بیعت کا خط آیا تو میں نے سمجھا کہ کالج کے فارغ التحصیل نوجوانوں میں سے کوئی نوجوان ہوں گے مگر اب جو وہ ملنے کے لئے آئے اور شوری کے موقع پر میں نے انہیں دیکھا تو ان کی داڑھی میں سفید بال تھے۔میں نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب سے ذکر کیا کہ میں یہ سمجھتا تھا کہ یہ نوجوان ہیں اور ابھی کالج میں سے نکلے ہیں مگر ان کی تو داڑھی میں سفید بال آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ تو دس بارہ سال کے وکیل ہیں۔پہلے احمدیت کے سخت مخالف ہوا کرتے تھے مگر احمدی ہو کر تو اللہ تعالیٰ نے انکی کا یا ہی پلٹ دی ہے۔اسی طرح قادیان کا ہی ایک واقعہ ہے جو حافظ روشن علی صاحب نے سنایا وہ فرماتے تھے کہ میں ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے ایام میں مدرسہ احمدیہ کی طرف سے آ رہا تھا کہ میں نے دیکھا ایک چھوٹی سی ٹولی جس میں چار پانچ آدمی ہیں مہمان خانے کی طرف سے آ رہی ہے اور دوسری طرف ایک بڑی ٹولی جس میں چالیس پچاس آدمی ہیں باہر کی طرف سے آ رہی ہے وہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھ کر ٹھہر گئیں اور پھر انہوں نے آگے بڑھ کر آپس میں لپٹ کر رونا شروع کر دیا۔وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر اس نظارے کا عجیب اثر ہوا اور میں نے آگے بڑھ کر اُن سے پوچھا کہ تم روتے کیوں ہو؟ اس پر وہ جو زیادہ تھے انہوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کو تھوڑے نظر آ رہے ہیں یہ ہمارے گاؤں میں سب سے پہلے احمدی ہوئے۔ہم لوگوں کو ان کا احمدیت میں داخل ہونا اتنا بُرا معلوم ہوا اتنا بُر امعلوم ہوا کہ ہم نے ان پر ظلم کرنے شروع کر دیئے اور یہاں تک ظلم کئے کہ یہ اپنی جائیدادیں اور مکان وغیرہ چھوڑ کر دور کسی اور شہر میں جاہے۔کچھ عرصہ کے بعد ہمیں بھی خدا تعالیٰ نے ہدایت دی اور ہم بھی