خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 310

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کی بو کو دور کرنے کے لئے انہوں نے عطر لگا لیا۔حالانکہ عطر وہ چیز ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے دنیا میں جو چیزیں محبوب ہیں ان میں ایک عطر بھی ہے۔مجھے بھی عطر بڑا محبوب ہے اور میں ہمیشہ کثرت کے ساتھ عطر لگا یا کرتا ہوں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ میں بخاری ہاتھ میں لئے حضرت خلیفہ اول سے پڑھنے کے لئے جا رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا کہاں جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا حضرت مولوی صاحب سے بخاری پڑھنے جا رہا ہوں۔فرمانے لگے مولوی صاحب کو میری طرف سے کہنا کہ ایک حدیث میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نئے کپڑے بدلتے اور عطر لگایا کرتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خلیفہ امسیح الا ول اپنی سادگی میں بعض دفعہ بغیر کپڑے بدلے جمعہ کے لئے تشریف لے آیا کرتے تھے۔میں نے جا کر اسی رنگ میں ذکر کر دیا۔حضرت مولوی صاحب یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمانے لگے حدیث تو ہے مگر یوں ہی کچھ غفلت ہو جاتی ہے۔تو عطر لگا نا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے مگر ان کے نزدیک جو شخص عطر ملتا ہے وہ اس بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے کہ گویا اس نے شراب پی ہوئی تھی جس کی بو کو زائل کرنے کیلئے اس نے عطر لگا لیا۔ایسے لوگوں کو ملاقات کا موقع دینا میرے نزدیک ظلم ہے کیونکہ عقلمند لوگ کہا کرتے ہیں کہ جولوگ اہل نہ ہوں ان پر احسان بھی نہیں کرنا چاہئے۔پس یہ لوگ اس قسم کے اخلاق کے مالک ہیں کہ ان کے ساتھ شرافت اور خوش خلقی کے ساتھ پیش آنا بھی اپنا نقصان آپ کرنا ہے۔ذرا غور کرو کہ ملاقاتیں بند تھیں میں اپنی جماعت کے دوستوں سے بھی نہیں ملتا تھا۔گھر میں صفائی ہو رہی تھی ، گرد اڑ رہی تھی سامان اِدھر اُدھر بکھرا ہوا تھا اور میں محض اس لئے کہ ایک پیغامی دوست ملنے کے لئے آئے ہیں جلدی جلدی صفائی کروانے لگا اور خود بھی اس صفائی میں شریک ہوا اور جب ان صاحب کو ملاقات کا موقع دیا تو وہ گھر جا کر کہنے لگ گئے کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی تبھی ملنے میں دیر لگائی۔یہ لوگ اگر دنیا کی اصلاح کرنے والے ہیں تو پھر اصلاح ہو چکی۔مگر اس قسم کے صرف چند لوگ ہی ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ