خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 18
خلافة على منهاج النبوة ۱۸ جلد سوم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات حضرت مسیح موعود کو ملے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جذبہ ہو کر ملے ہیں اور اب اُسی کو خلافت مل سکتی ہے جو مسیح موعود میں ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہو۔جس وقت حسین کا می قادیان میں آیا تھا اُس وقت حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ میں کشفی نظر سے دیکھتا ہوں کہ سلطان کے دربار میں کچھ کچے دھاگے ہیں جو نازک وقت پر ٹوٹ جائیں گے۔چنانچہ وہ ٹوٹ گئے اور سلطان کو بھی لے کر غرق ہو گئے۔یہ کیسی عظیم الشان خبر تھی جو پوری ہوئی اور پندرہ سال کے عرصہ میں متعدد بار پوری ہو چکی ہے۔پہلے سلطان عبدالحمید خان کے وقت میں پوری ہوئی پھر موجودہ خلیفہ سے پہلے کے وقت میں پوری ہوئی اور اب پھر پوری ہوئی جبکہ خلافت ٹوٹ گئی اور خدا کی بات پوری ہوگئی۔ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک ایسے گاؤں میں رہنے والے جو سٹیشن سے بھی 1 میل دور ہے سیاست کو کیا سمجھ سکتے ہیں۔ہم کہتے ہیں دیکھو سٹیشن سے امیل پرے رہنے والے کی بات پوری ہوئی اس لئے کہ اس میں صداقت بھری ہوئی تھی۔سیاستدان بے خبر رہے مگر وہ جسے سیاست سے بے خبر کہا جاتا تھا اس کی بات سچی نکلی۔اگر اس کی بات مانی جاتی تو آج سیاست دان منہ کے بل نہ گرتے۔اب بھی مسلمانوں کے لئے موقع ہے کہ سمجھ سے کام لیں اور ٹوٹنے والے تا گوں کی نظیر سے فائدہ اُٹھائیں جیسا کہ مولوی رومی نے کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم را را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند اس وقت تمام جہان کی نگاہ ہندوستان پر پڑ رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ ترقی کا سامان ہندوستان کی طرف سے ہو گا۔اس بات کو کوئی مانے یا نہ مانے ہندوستان کی طرف توجہ کا ہونا اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ ہندوستان کو خاص درجہ حاصل ہو رہا ہے۔دیکھو وہ شخص جو کل تک خلیفہ تھا آج مظلوم ہے اور جس کو سلطان المعظم کہا جاتا تھا وہ کہتا ہے کہ ہم ہندوستان کی آواز کے منتظر ہیں۔پھر مسٹر گاندھی نے مسٹر محمد علی کو خلافت کے ٹوٹنے پر