خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 17
خلافة على منهاج النبوة ۱۷ جلد سوم جائیں۔یہ وہ فعل ہے جو کسی ظالم ترین بادشاہ سے کیا جاتا ہے۔پھر اس شرمناک طریق پر اس کو معزول کیا گیا ہے کہ جس سے افسوس ہوتا ہے۔یہ نہیں کیا گیا کہ معمولی طور پر خط لکھ دیا ہو کہ آپ چلے جائیں آپ معزول کر دیئے گئے ہیں بلکہ جب وہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے تب اُس کو کہا جاتا ہے کہ ملک کی طرف سے حکم ہے کہ تخت سے اتر آؤ یہ کیسی ذلت کا نظارہ ہوگا جو وہاں پیش آیا۔ایک وقت تھا جب دنیا کو اس کی مدد کے لئے اُبھارا جاتا تھا۔اس بات کا خیال کر کے اس وقت خلیفہ کے دل میں مسلمانوں کی بیس کروڑ تعداد کی وفاداری کا کیا احساس ہوگا جب اسے کہا گیا ہوگا کہ تم تخت سے اُتر آؤ اور دو گھنٹے کے اندر اندر ملک سے باہر نکل جاؤ تم اور تمہاری اولاد بیوی اور خاندان کے دوسرے لوگوں کو اس ملک میں گھنے کا حکم نہیں ہے۔اگر کوئی سلطنت ہوتی تو مجھے امید ہے کہ وہ ایسا بز دلا نہ سلوک نہ کرتی۔مگر یہ کیوں ہوا؟ یہ اس لئے ہوا کہ ترکوں کا خیال ہوا کہ خلافت کا مسئلہ سخت پیچیدہ ہو گیا ہے اور یہ کہ اس سے جمہوریت کے خلاف طوفان اٹھایا جاسکتا ہے۔میرے نزدیک ترکوں کی یہ کارروائی مسلمانوں کے اس جوش کا نتیجہ ہے جو انہوں نے خلافت ٹرکی کے متعلق دکھایا۔ترکوں کو یہ خیال ہوا کہ اگر خلیفہ اور جمہوریت کا سوال اٹھا تو خلیفہ کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی ہوگی اور ہماری حکومت ٹوٹ جائیگی۔سیاسی طور پر ان کا یہ خیال درست تھا اور ان کو اس خطرہ سے بچنے کے لئے خلافت کا نام و نشان مٹانا ضروری تھا۔مگر جو غیر شریفانہ سلوک خلیفہ کے ساتھ اُنہوں نے کیا ہے وہ نہایت ہی قابل افسوس اور قابل نفرت ہے۔امید ہے کہ مسلمانوں کی سمجھ میں اب وہ باتیں آجائیں گی جن کو وہ پہلے نہیں سمجھتے تھے۔میں افسوس سے کہتا ہوں اور اس لئے کہتا ہوں کہ جس مقام پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اس کے لحاظ سے مجھے کہنے کا حق ہے کہ دیکھو میں نے کہا تھا کہ تم سلطنت لڑکی کے متعلق ایسا نہ کرو مگر تم نے وہی کیا۔اب اس کی خوفناک غلطی تم پر ظاہر ہوگئی۔میں یہ بات کہہ سکتا ہوں اور دوسرا نہیں کہہ سکتا اب بھی وہ راستہ کھلا ہے جو خدا نے کھولا تھا اس آواز کوسنیں جو خدا کے مامور نے بلند کی۔اس آواز کے مقابلہ میں کوئی آواز نہیں ٹھہر سکتی۔اب کو ئی خلیفہ نہیں ہو سکتا جس کی گردن میں مسیح موعود کی اتباع کا جوا نہ ہو۔