خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 19

خلافة على منهاج النبوة ۱۹ جلد سوم جو تار دیا ہے اس میں لکھا ہے کہ اسلام کا مستقبل مسلمانانِ ہند کے ہاتھ میں ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کی طرف نگاہیں پڑ رہی ہیں۔یہ دراصل خدا کی مخفی انگلی کام کر رہی ہے اور دنیا کو ہندوستان کی طرف متوجہ کر رہی ہے اس لئے نہیں کہ ہندوستان میں گاندھی اور محمد علی ہیں ان کی طرف دنیا کو لائے بلکہ اس لئے کہ غلام احمد ہندوستان میں پیدا ہوا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ اس کی طرف دنیا کو لائے اور یہ ظاہر کرے کہ دنیا کی آئندہ نجات کس سے وابستہ ہے۔یہ قدرت کی آواز امریکہ اور انگلستان کی طرف متوجہ نہیں کرتی جہاں ڈوئی اور پکٹ ہوئے۔یہ ایران اور شام کی طرف متوجہ نہیں کرتی جہاں باب اور بہاء اللہ ہوئے۔یہ افریقہ کی طرف نہیں لے جاتی کہ وہاں چارہ کار تلاش کیا جائے بلکہ ہندوستان کی طرف متوجہ کرتی ہے اس لئے کہ وہ راستباز ہندوستان میں آیا جس سے دنیا کی آئندہ ترقی وابستہ ہے۔یہ جمعہ کا خطبہ ہے میں اس کو لمبا نہیں کرنا چاہتا مگر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا قانون ہے کہ جب وہ کسی طرف دنیا کی توجہ پھیر نی چاہتا ہے تو اس کے لئے غیر معمولی اور غیر متعلق سامان پیدا کر دیتا ہے۔اب جہاں سیاسی امور کی وجہ سے ہندوستان پر نظر پڑ رہی ہے اسی طرح ہندوستان کو لوگوں کی نظروں میں لانے کے لئے اور سامان بھی کر دئیے گئے ہیں کیونکہ دنیا میں بیشمار لوگ ایسے ہیں جو مذ ہب پر براہ راست متوجہ ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے اس لئے خدا تعالیٰ نے ہندوستان میں ٹیگور کو پیدا کیا کہ لٹریچر سے مذاق رکھنے والے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوں اور اس طرح ٹیگور مسیح موعود کی طرف لوگوں کو لانے کا ایک ذریعہ ہو گیا۔پھر خدا کے نبی سائنس کے مسائل حل کرنے کے لئے نہیں آتے مگر اس زمانہ میں چونکہ سائنس کی طرف دنیا متوجہ ہے اس لئے خدا نے ہندوستان میں بوسے کو پیدا کیا۔جس نے اپنے اکتشافات سے ہندوستان کو دنیا کی نظر میں ممتاز کر دیا اور یہ اس لئے ہوا کہ وہ لوگ جن کو سائنس سے لگاؤ ہے وہ اسی ذریعہ سے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوں۔اور اس طرح یہ ذرائع اختیار کر کے خدا تعالیٰ نے دنیا کو مسیح موعود کے پاس لا کھڑا کیا ہے۔اور یہ سامان اس لئے ہو رہے ہیں کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ دنیا کی آئندہ مصلح قوم ہندوستان