خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 299
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۹ جلد سوم اُٹھا اُٹھا کر لے آئیں چونکہ ان چیزوں کی تیاری میں ان کے چندہ کا بھی دخل ہے اور اگر وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے تو دنیا جان لے گی کہ انہوں نے جو جواب دیا ہے وہ غلط ہے اور انہیں اس بات کا قطعاً کوئی حق حاصل نہیں تھا کہ وہ انجمن کی کسی چیز کو اس طرح لے جاتے اور اگر وہ اس بات کو جائز سمجھتے ہیں تو اس کا اعلان کر دیں۔میں ان لوگوں کی ایک لسٹ پیش کر دوں گا جو ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے اور کافی رقوم انہیں چندے میں دیتے رہے ہیں۔میں ان تمام کو ایک وفد کی صورت میں ان کے پاس بھیجنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنی انجمن کے دروازے ان کے لئے کھول دیں تا کہ وہ جس چیز کو اپنے لئے ضروری سمجھیں اُٹھا لیں کیونکہ ان کے چندہ میں وہ بھی حصہ دار رہ چکے ہیں۔لیکن اگر وہ اس بات کے لئے تیار نہیں تو پھر ان کا یہ کہنا کس طرح درست ہوسکتا ہے کہ چونکہ ہمارے چندے بھی قادیان میں آتے تھے اس لئے ہم اپنے چندہ کے عوض ترجمہ قرآن اور دوسرا سامان لے آئے۔پھر میں کہتا ہوں ایک منٹ کے لئے اگر اس بات کو فرض بھی کر لیا جائے کہ اس وجہ سے سلسلہ کا ایک مال اپنے قبضہ میں کر لینا ان کے لئے جائز تھا تو سوال یہ ہے کہ یہ مال تو سلسلہ کا تھا مولوی محمد علی صاحب کو اس بات کی کس نے اجازت دی کہ وہ اس مال کو اپنی ذاتی جائیداد قرار دے لیں۔مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو شیخ رحمت اللہ صاحب دیا کرتے تھے۔مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب دیا کرتے تھے۔مان لیا کہ وہ ترجمہ قرآن اور کتب وغیرہ اس چندہ کے بدلہ میں لے گئے جو ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب دیا کرتے تھے۔ہم نے ان تمام باتوں کو تسلیم کر لیا۔مگر سوال یہ ہے کہ دنیا کا وہ کونسا قانون ہے جس کے مطابق قوم کے چندہ اور قوم کے روپیہ سے تیار ہونے والی چیز مولوی محمد علی صاحب کی ذاتی ملکیت بن جائے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص باغ سے انگور کا ٹوکرا اُٹھا کر گھر کو لئے جا رہا تھا کہ باغ کے مالک کی اس پر نظر پڑ گئی اور اُس نے پوچھا کہ تم میرے باغ سے انگور تو ڑ کر