خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 300

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم اور ٹوکرے میں بھر کر کس کی اجازت سے اپنے گھر لئے جار ہے ہو وہ کہنے لگا پہلے میری بات سن لیجئے اور پھر اگر کوئی الزام مجھ پر عائد ہو سکتا ہو تو بے شک مجھ پر عائد کیجئے۔ما لک آدمی تھا شریف اُس نے کہا بہت اچھا پہلے اپنی بات سناؤ۔وہ کہنے لگا بات یہ ہے کہ میں راستہ میں چلا جارہا تھا کہ ایک بگولہ آیا اور اس نے اُڑا کر مجھے آپ کے باغ میں لا ڈالا۔اب بتائیے اس میں میرا کیا قصور ہے۔مالک بہت رحم دل تھا اس نے کہا کہ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں بلکہ مجھے تم سے ہمدردی ہے۔وہ کہنے لگا ، آگے سنے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جہاں میں گرا وہاں جابجا انگوروں کی بیلیں لگی ہوئی تھیں ایسے وقت میں آپ جانتے ہیں کہ انسان اپنی جان بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارا کرتا ہے۔میں نے بھی ہاتھ پاؤں مارے اور انگوروں نے گرنا شروع کر دیا۔بتائیے اس میں میرا کوئی قصور ہے؟ وہ کہنے لگا قصور کیسا اگر تمہاری جان بچانے کے لئے میرا سارا باغ بھی اجڑ جاتا تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہ ہوتی۔پھر وہ کہنے لگا کہ جب انگور گرنے لگے تو نیچے ایک ٹوکرا پڑا تھا انگور ایک ایک کر کے اس ٹوکرے میں اکٹھے ہو گئے۔فرمائیے اس میں میرا کیا قصور ہے؟ مالک نے کہا یہ تم عجیب بات کہتے ہو۔میں نے مانا کہ بگولہ تمہیں اُڑا کر میرے باغ میں لے گیا، میں نے مانا کہ تم ایسی جگہ گرے جہاں انگور کی بیلیں تھیں، میں نے مانا کہ تم نے اپنی جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے تو انگور گر نے لگے ، میں نے مانا کہ اُس وقت وہاں کوئی ٹوکر ا پڑا تھا جس میں انگور ا کٹھے ہوتے چلے گئے۔مگر تمہیں یہ کس نے کہا تھا کہ ٹوکرا سر پر اُٹھا کر اپنے گھر کی طرف لے جاؤ۔وہ کہنے لگا بس یہی بات میں بھی سوچتا آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو گیا۔تو میں نے مان لیا کہ یہ لوگ چندہ دیا کرتے تھے، میں نے مان لیا کہ ان چندوں کی وجہ سے اِن لوگوں کو اس بات کا حق حاصل تھا کہ انجمن کی ایک چیز کو غاصبانہ طور پر اپنے ساتھ لے جائیں۔مگر مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ میں وہ ترجمہ دے کر انہیں یہ کس نے کہا تھا کہ وہ اسے اپنے گھر لے جائیں۔اگر ترجمہ قرآن کی تمام آمد انجمن اشاعت اسلام لاہور کے کاموں پر خرچ ہوتی اور مولوی محمد علی صاحب کو اس سے ایک حسبہ بھی نہ ملتا تو کہا جاسکتا تھا کہ یہ انجمن کی چیز تھی اور انجمن کے پاس ہی رہی۔مگر وہ ترجمہ قرآن جس کے حقوق ملکیت یا تو ہمیں حاصل تھے یا