خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 298
خلافة على منهاج النبوة ۲۹۸ جلد سوم اور ہر وقت آنکھوں کے سامنے اس کی شکل پھرتی رہتی تھی۔اس کے بعد پانچ سات سال کا عرصہ اور گزر گیا اور اُس عورت نے پھر تھوڑا بہت جمع کر کےسونے کے کنگن بنوا لئے۔ایک دن وہ اسی طرح چرخہ کات رہی تھی کہ اُس نے پھر اُسی چور کو کہیں پاس سے گزرتے دیکھا۔اُس نے ایک لنگوٹی باندھی ہوئی تھی اور کسی کام کیلئے جا رہا تھا۔عورت نے جونہی اسے دیکھا آواز دے کر اُسے کہنے لگی بھائی ذرا بات سن جانا۔اُس نے خیال کیا کہ کہیں یہ مجھے پولیس کے سپرد نہ کرا دے اس لئے اس نے تیز تیز قدم اُٹھا کر وہاں سے غائب ہو جانا چاہا اس پر اس عورت نے پھر اُسے آواز دی اور کہا بھائی میں کسی سے نہیں کہتی تم میری ایک بات سن جاؤ۔چنانچہ وہ شخص آ گیا۔عورت اپنا ہاتھ نکال کر اُسے کہنے لگی۔دیکھ لو ان ہاتھوں میں تو پھر سونے کے کنگن پڑ گئے ہیں اور تمہارے جسم پر کنگن چرا کر بھی لنگوٹی کی لنگوٹی ہی رہی تو میں نے کہا قاضی صاحب ! آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے اور بہت کچھ دے گا لیکن آپ سمجھ لیں کہ ہم کتنے خطرناک الزام کے نیچے آ سکتے ہیں اگر ہم انہیں یہ سامان لے جانے سے روک دیں۔کل کو لوگوں میں یہ کہتے پھریں گے کہ صرف دو مہینے کے لئے ترجمہ قرآن کرنے کی خاطر میں یہ کتابیں اور سامان اپنے ساتھ لے چلا تھا مگر ان لوگوں نے دو مہینے کے لئے بھی یہ چیز میں نہ دیں اور اس طرح ترجمہ قرآن میں انہوں نے روک ڈالی۔پس اگر ہم یہ سامان لے جانے سے انہیں روکیں گے تو ساری عمر کے لئے ہماری پیشانی پر داغ لگ جائے گا اور اگر مولوی صاحب ان چیزوں کو واپس نہیں کریں گے تو وہ الزام کے نیچے آجائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اور سامان دے دیگا۔تو قاضی صاحب کو اس موقع پر بڑاطیش آیا مگر میں نے انہیں سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا لیکن بات اُن کی ٹھیک نکلی کہ وہ کئی ہزار روپے کا سامان ترجمہ قرآن کے نام سے اپنے ساتھ لے گئے۔پس اگر یہ اصول درست ہے کہ چونکہ چندہ میں ان کا بھی حصہ تھا اس لئے اُن کو اس بات کا حق حاصل تھا کہ وہ ترجمہ قرآن اور دوسرا سامان اپنے ساتھ لے جاتے تو پھر وہ اس بات کی بھی اجازت ہمیں دے دیں تا ہماری جماعت کے وہ دوست جو ان میں سے نکل کر ہمارے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور جو انہیں ایک لمبے عرصہ تک چندے دیتے رہے ہیں وہ ان کی انجمن کی چیزیں