خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 16
خلافة على منهاج النبوة ۱۶ جلد سوم اہلحدیث کا یہ مذہب ہے کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے۔ان میں سے جن لوگوں نے شور و ہنگامہ میں خلافت لڑکی کی تائید میں آواز اُٹھائی اور خلافت کو جائز سمجھا وہ ان کے مذہبی عقیدے کے مطابق رائے نہ تھی بلکہ بزدلی اور خود غرضی کے ما تحت رائے تھی۔علاوہ اس کے سنیوں میں سے بھی اس خیال کے لوگ پائے جاتے ہیں جو ترک سلطان کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ ترکوں کی ہمدردی کی تحریک کی بنیاد ایک ایسی بات پر رکھنا غلطی ہے جس پر سب مسلمان متفق نہیں ہو سکتے۔بلکہ اس کی بجائے اس تحریک کو سیاسی طور پر چلایا جائے اور مخالف رائے کو موافق بنایا جائے اور ترکی حکومت کو بحیثیت ایک اسلامی سلطنت کے پیش کیا جائے۔میری اس بات کو حقارت سے دیکھا گیا یا ظاہر کیا گیا کیونکہ بعض ذی اثر اصحاب نے اپنی پرائیویٹ ملاقاتوں میں میری تجویز کی تعریف کی اور کہا کہ ہونا تو ایسا ہی چاہئے مگر اب حالات ایسے ہیں کہ ہم عوام کی مخالفت نہیں کر سکتے۔لیکن جو ہجرت کی تحریک کا نتیجہ ہوا اور بائیکاٹ کی تحریک کا ہوا وہی آخر کا ر خلافت کا نتیجہ ہوا۔خلافت کی تحریک کے جوش کے زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ نماز کا چھوڑ نا زکوۃ نہ دینا کوئی بات نہیں مگر جو خلافت کا منکر ہے وہ کافر ہے۔اور وہ شخص جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ خلافت کا منجی ہے اور خلافت کو قائم کرنے والا ہے وہ آج خلافت کے متعلق ایسا فعل کرتا ہے جو نہایت شرمناک ہے۔وہ خلافت کو مٹا کر ہی دم نہیں لیتا بلکہ ایک ایسے ظالمانہ فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو بہت ہی شرمناک اور ظالمانہ ہے۔وہ نہ صرف خلیفہ کو معزول کرتا ہے بلکہ اس کے خاندان کے بیوی بچوں اور کل افراد کو ملک سے نکال دیتا ہے اور ملک کا داخلہ ان پر بند کر کے ان لوگوں کو ان کے آبائی وطن میں آنے سے محروم کر دیتا ہے۔یہ وہ سزا ہے جو چوروں اور ڈاکوؤں کو بھی نہیں دی جاتی۔چور قید کیا جاتا ہے مگر اس کی نسل کو قید نہیں کیا جاتا۔اس کی بیوی اور اس کے بچوں کو جلا وطن نہیں کیا جاتا کیونکہ ان کا قصور نہیں ہوتا۔مگر ترک خلیفہ کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جاتا ہے۔اگر خلیفہ تر کی خلافت کے اہل نہ تھا اگر وہ اپنے افعال کی بنا پر قابل سزا تھا تو یہ کون سا اخلاق کا قانون ہے کہ اس کے اہل کو بھی جلا وطن کر دیا جائے اور ان کی جائداد میں زیر نگرانی کر لی