خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 285

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۵ جلد سوم نہیں تھا۔جماعت میں جب یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ کچھ لوگ تو یہ کہنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مقرر کردہ جانشین انجمن ہے اور کچھ اس پر اعتراض کرنے لگے تو میر محمد اسحاق صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بعض سوالات لکھ کر پیش کئے جن میں خلافت کے مسئلہ پر روشنی ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی مگر مجھے ان سوالات کا کوئی علم نہیں تھا۔اسی دوران میں میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا مکان ہے اور اس کے دو حصے ہیں ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نا مکمل۔نامکمل حصے پر چھت پڑ رہی ہے، بالے رکھے ہوئے ہیں مگر ابھی اینٹیں یا تختیاں رکھ کر مٹی ڈالنی باقی ہے۔رویا میں میں نے دیکھا کہ چھت کے ننگے حصہ پر ہم چار پانچ آدمی کھڑے ہیں اور عمارت دیکھ رہے ہیں۔انہیں میں ایک میر محمد اسحاق صاحب بھی ہیں اور وہ بھی ہمارے ساتھ مل کر عمارت دیکھ رہے ہیں کہ وہاں کڑیوں پر ہمیں کچھ بھو سا پڑا دکھائی دیا۔میر محمد اسحاق صاحب کے ہاتھ میں ایک دیا سلائی کی ڈبیہ تھی اُنہوں نے اس میں سے ایک دیا سلائی نکال کر کہا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس بھس کو جلا دوں۔میں نے انہیں کہا کہ یہ بھوسا جلایا تو جائے گا ہی مگر ابھی وقت نہیں آیا۔آپ بھس کو مت جلائیں کڑیاں بھی ننگی ہیں ایسا نہ ہو کہ بھس کے ساتھ ہی بعض کڑیوں کو بھی آگ لگ جائے۔مگر وہ کہتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس بھس کو جلا دوں۔میں پھر انہیں روکتا ہوں اور کہتا ہوں ایسا نہ کرنا۔اس پر وہ پھر کہنے لگے میں چاہتا ہوں اس بھس کو ضرور آگ لگا دوں۔مگر میں نے پھر انہیں روکا اور یہ سمجھ کر کہ اب میر صاحب اس بھس کو آگ نہیں لگائیں گے دوسری طرف متوجہ ہو گیا۔لیکن چند ہی لمحہ کے بعد مجھے کچھ شور سا معلوم ہوا۔میں منہ پھیر کر کیا دیکھتا ہوں کہ میر محمد اسحاق صاحب دیا سلائی کی تیلیاں نکال کر اس کی ڈبیہ سے جلدی جلدی رگڑتے ہیں مگر وہ جلتی نہیں۔ایک کے بعد دوسری تیلی نکال کر اس کو جلانے کی کوشش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس بھس کو آگ لگا دیں۔میں یہ دیکھ کر ان کی طرف دوڑا مگر میرے پہنچنے سے پہلے پہلے انہوں نے بھس کو آگ لگا دی۔میں یہ دیکھ کر آگ میں کود پڑا اور جلدی سے اسے بجھا دیا مگر اس عرصہ میں چند کٹڑیوں کے سرے جل