خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 284

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۴ جلد سوم انتخاب کیا ہے۔حضرت خلیفہ اول کی بیعت پر ا بھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی محمد علی صاحب کے سامنے مجھ سے سوال کیا کہ میاں صاحب ! خلافت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا آپ کا اس سوال سے کیا منشاء ہے؟ کہنے لگے یہی کہ خلیفہ کے کیا اختیارات ہیں؟ میں نے کہا خواجہ صاحب وہ دن گئے اب اختیارات کے فیصلہ کا کوئی وقت نہیں۔اختیارات کے فیصلے کا وقت وہ تھا جب ہم نے حضرت خلیفہ اول کی ابھی بیعت نہیں کی تھی مگر جب ہم نے آپ کی بیعت کر لی تو اب بیعت کرنے کے بعد ہمارا کیا حق ہے کہ ہم خلیفہ کے اختیارات پر بحث کریں۔جب خلافت کا انتخاب عمل میں آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ کون شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جانشین بنے کا اہل ہے تو اس کے بعد ہمارا یہی کام ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کریں یہ کام نہیں کہ آپ کے اختیارات پر بحث کریں۔میرے اس جواب پر انہوں نے فوراً اپنی بات کا رُخ بدل لیا اور کہا کہ بات تو ٹھیک ہے میں نے تو یونہی علمی طور پر یہ بات دریافت کی تھی اور ترکوں کی خلافت کا حوالہ دے کر کہا کہ چونکہ آجکل لوگوں میں اس کے متعلق بحث شروع ہے اس لئے میں نے بھی آپ سے اس کا ذکر کر دیا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آپ کی کیا رائے ہے اور اس پر ہماری گفتگوختم ہو گئی۔لیکن بہر حال اس سے مجھے پر ان کا عندیہ ظاہر ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ ان لوگوں کے دلوں میں حضرت خلیفہ اول کا کوئی ادب اور احترام نہیں اور یہ چاہتے ہیں کسی طرح خلافت کے اس طریق کو مٹا دیں جو ہمارے سلسلہ میں جاری ہوا ہے۔پس اصل اختلاف یہاں سے شروع ہوا مگر جب انہوں نے محسوس کیا کہ جماعت نے چونکہ حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی ہوئی ہے اور اس وجہ سے اسے بیعت سے منحرف کرنا آسان کام نہیں تو انہوں نے دوسرا قدم یہ اُٹھایا کہ لوگوں میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ حضرت خلیفہ اول تو بڑے بزرگ انسان ہیں ان سے جماعت کو کوئی خطرہ نہیں۔ہاں اگر کل کوئی بچہ خلیفہ ہو گیا تو پھر کیا ہو گا اور اس بچہ سے مراد میں تھا مگر مجھے اُس وقت اس بات کا کوئی علم