خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 286
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۶ جلد سوم گئے۔میں نے جب یہ رؤیا دیکھا تو حیران ہوا کہ نہ معلوم اس کی کیا تعبیر ہے۔اُن دنوں میں حضرت خلیفہ اول سے بخاری پڑھا کرتا تھا اور مسجد مبارک کو گلی میں سے جو سیڑھیاں چڑھتی ہیں اُن کے پاس ہی آپ دروازہ کے پاس مسجد میں بیٹھا کرتے تھے۔میں نے ایک خط لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے سامنے پیش کیا جس میں لکھا کہ رات میں نے یہ عجیب خواب دیکھا ہے جو جماعت کے متعلق معلوم ہوتا ہے مگر ہے منذر مجھے معلوم نہیں اس کی کیا تعبیر ہے۔حضرت خلیفہ اول نے اس خواب کو پڑھتے ہی میری طرف دیکھ کر فرمایا۔خواب تو پوری ہو گئی۔میں حیران ہوا کہ خواب کس طرح پوری ہو گئی چنانچہ میں نے عرض کیا کس طرح ؟ آپ فرمانے لگے میاں ! تمہیں معلوم نہیں اور یہ کہہ کر کاغذ کی ایک ساپ پر آپ نے لکھا۔میر محمد اسحاق نے کچھ سوالات لکھ کر دیئے ہیں۔وہ سوال میں نے باہر جماعتوں کو بھجوا دیئے ہیں میں سمجھتا ہوں اس سے خوب آگ لگے گی۔مجھے اس پر بھی کچھ معلوم نہ ہوا کہ میر محمد اسحاق صاحب نے کیا سولات کئے ہیں لیکن میں نے ادب کی وجہ سے دوبارہ آپ سے دریافت نہ کیا۔البتہ بعد میں شیخ یعقوب علی صاحب اور بعض اور دوستوں سے پوچھا تو انہوں نے ان سوالات کا مفہوم بتایا۔بعد میں جب جماعتوں کی طرف سے ان کے جوابات آ گئے اور بعض میں نے دیکھے تو اُس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ سوالات خلافت کے متعلق تھے اور اُن میں اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔میر صاحب کے اِن سوالات کی وجہ سے جو گویا بھس میں آگ لگانے کے مترادف تھے جماعت میں ایک شور پیدا ہو گیا اور چاروں طرف سے ان کے جوابات آنے شروع ہو گئے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر انہیں یہ تو معلوم ہی ہو گیا تھا کہ جماعت کو بیعت کرنے کے بعد خلافت سے پھر ا نا مشکل ہے اس لئے اب انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہی خیالات نَعُوذُ بالله ) حضرت خلیفہ اول کے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ الحمد لله فتنہ ابھی ظاہر ہو گیا اور سب کو معلوم ہو گیا کہ ایک بچہ کو خلیفہ بنا کر بعض لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔خدا کا شکر ہے کہ ایسے بے نفس آدمی کے وقت میں یہ سوال پیدا ہوا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ وہ میری۔