خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 283

خلافة على منهاج النبوة ۲۸۳ جلد سوم جو شخص خدا تعالیٰ کا سچا خلیفہ تھا وہ تو دلیر اور بہادر تھا اور ان لوگوں کا یہ حال تھا کہ قدم قدم پر ان لوگوں کے دل ڈرتے تھے۔ایک طرف انہیں یہ ڈر تھا کہ جماعت میں ہمارے خلاف کوئی جوش پیدا نہ ہو جائے دوسری طرف یہ ڈر تھا کہ کہیں حضرت خلیفہ اول ان سے ناراض نہ ہو جائیں۔تیسری طرف وہ اس بات سے بھی ڈرتے تھے کہ کہیں اس کے نتیجہ میں یہ تو نہیں ہو گا کہ نہ ہم اِدھر کے رہیں اور نہ اُدھر کے اور نہ احمدی رہیں نہ غیر احمدی۔غرض بات بات پر ان کا دل ڈرتا تھا کیونکہ ان کے دل میں خدا نہیں بول رہا تھا بلکہ نفسیاتی خواہشات جوش مار رہی تھیں اور نفسیاتی خواہشات حو صلے بڑھا یا نہیں کرتیں بلکہ حوصلوں کو پست کیا کرتی ہیں۔گویا ان لوگوں کی جرات اور پھر خلافت کے دعوے کی مثال ایسی ہی تھی جیسے بنیا جب کسی سے لڑتا ہے تو پنسیری اُٹھا کر کہتا ہے میں یہ مار کر تیرا سر پھوڑ دوں گا۔مگر یہ کہنے کے ساتھ ہی بجائے اس کے کہ وہ دو قدم آگے بڑھے دو قدم پیچھے کود کر چلا جاتا ہے۔جس سے صاف پتا لگ جاتا ہے کہ جب اُس نے یہ کہا کہ میں پنسیری مار کر تیرا سر پھوڑ دوں گا تو اُس وقت اُس کا دل نہیں بول رہا تھا بلکہ صرف زبان بول رہی تھی۔ورنہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو کوئی یہ کہے کہ میں مار کر تیرا سر پھوڑ دونگا اور دوسری طرف وہ بجائے آگے بڑھنے کے کو دکر دو قدم پیچھے چلا جائے۔اسی طرح یہ لوگ بھی ایک طرف تو یہ کہتے تھے کہ ہم خلیفہ ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صدر انجمن احمدیہ کو ہی اپنا جانشین قرار دیا ہے اور دوسری طرف ڈرتے تھے کہ خبر نہیں کہیں جماعت ناراض نہ ہو جائے۔کہیں حضرت مولوی صاحب ہم پر ناراضگی کا اظہار نہ کر دیں۔کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی کوئی ایسے سامان نہ ہو جائیں جو ہمیں اپنی کوششوں میں ناکام و نامراد کر دیں۔غرض قدم قدم پر ان لوگوں کو خوف و ہراس نے گھیر رکھا تھا۔مگر بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ان لوگوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان لوگوں نے اخبارات سلسلہ میں ایک اعلان شائع کرایا جس میں لکھا کہ ہم نے الوصیت کی ہدایات کے مطابق خلافت کا