خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 282
خلافة على منهاج النبوة ۲۸۲ جلد سوم جب کوئی نبی فوت ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کا مخفی الہام قوم کے دلوں کو اس زندگی کی تفصیلات کی طرف متوجہ کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد بھی ان لوگوں کے دل اس قدر مرعوب اور خائف ہو گئے تھے کہ اس وقت یہ یقینی طور پر سمجھتے تھے کہ اب کسی خلیفہ کے بغیر جماعت کا اتحاد اور اس کی ترقی ناممکن ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کا انتخاب عمل میں آیا۔یوں منہ سے ان لوگوں کا اپنے آپ کو یا صدرانجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جانشین کہنا اور بات ہے۔سوال تو یہ ہے کہ انجمن کے یہ نمبر جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کا خلیفہ اور جانشین قرار دیتے تھے وہ دل گردہ کہاں سے لاتے جو خدا وند تعالیٰ کے خلیفہ کے لئے ضروری ہے۔منہ سے تو ہر شخص جو جی چاہے دعویٰ کر سکتا ہے خواہ حقیقت اس کے اندر کوئی ہو یا نہ ہو۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا جسے بہادری کا بہت بڑا دعوی تھا ایک دفعہ اس نے اپنی بہادری کے نشان کے طور پر اپنے بازو پر شیر گودوانا چاہا۔وہ گودنے والے کے پاس گیا اور کہنے لگا میرے باز و پر شیر گوددو۔اس نے کہا بہت اچھا اور یہ کہہ کر اس نے سوئی جو ماری تو اسے درد ہوا اور کہنے لگا یہ کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے کہا شیر گود نے لگا ہوں۔وہ کہنے لگا شیر کا کون سا حصہ ؟ اس نے بتایا کہ دایاں کان۔اس نے کہا کہ اگر دایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اچھا تو پھر اس دائیں کان کو چھوڑو اور آگے گودو۔اُس نے پھر دوسرا کان بنانے کے لئے سوئی ماری تو اسے پھر درد ہوا اور یہ پھر چلا کے کہنے لگا اسے چھوڑو اور آگے چلو۔اُس نے اُسے بھی چھوڑا۔اس کے بعد جس کسی عضو کے بنانے کے لئے وہ سوئی مارتا تو یہ شخص چلا کر اسے منع کر دیتا آخر گودنے والے نے سوئی رکھ دی اور جب اُس نے پوچھا کہ کام کیوں نہیں کرتے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں کان گود نے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑ دو ، پھر سر گود نے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑو ، منہ گود نے لگا تو تم نے کہا اِس کو چھوڑ و، پیٹھ گود نے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑ و، ٹانگیں گود نے لگا تو تم نے کہا اس کو چھوڑو۔جب تمام چیزیں میں نے چھوڑتے ہی چلے جانا ہے تو شیر کا باقی کیا رہ گیا۔تو منہ سے دعوی کرنا اور بات ہے اور اللہ تعالیٰ سے طاقت اور قوت کا ملنا بالکل اور بات ہے۔