خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 272

خلافة على منهاج النبوة ۲۷۲ جلد سوم محبت کا شاندار نظارہ کبھی نظر نہیں آسکتا اور کبھی نظر نہیں آ سکتا۔یہی رات ہمارے زمانہ میں بھی آئی اور خدائے قادر نے آواز دی کہ کوئی بندہ ہے جو مجھے بچائے۔تب زمین کے گوشوں میں سے ایک کمزور شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا۔میرے رب ! میں حاضر ہوں۔عقلمند انسان چاہے اسے بے وقوفی قرار دیں اور فلاسفر چاہے اسے نادانی قرار دیں مگر جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ہزاروں عقلیں اس بے وقوفی پر قربان کی جاسکتی ہیں اور ہزاروں فلسفے کے خیالات اس بظا ہر نادانی کے خیال پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔پھر اس کا وہ اعلان محض وقتی اعلان نہ تھا، اِس کا اظہار محبت ایک وقتی جوش نہ تھا وہ کھڑا ہو گیا اور کھڑا ہی رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے مقصود کو حاصل کر لیا۔کیا تم نے کبھی گھروں میں نہیں دیکھا کہ وہاں بعض دفعہ کیا تماشہ ہوا کرتا ہے میں نے تو اس قسم کا تماشہ کئی دفعہ دیکھا اور میں سمجھتا ہوں ہر گھر میں کبھی نہ کبھی ایسا ہو جا تا ہوگا کہ کبھی کبھی مائیں ہنسی کے طور پر کپڑا منہ پر ڈال کر رونے لگ جاتی ہیں اور اوں اوں“ کرتے ہوئے اپنے کسی بڑے بھائی یا خاوند یا کسی دوسرے عزیز رشتہ دار کا نام لیکر بچے سے کہتی ہیں کہ وہ مجھے مارتے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ ڈیڑھ سال کا بچہ کو دکر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا ہاتھ اُٹھا لیتا ہے گویا وہ اس شخص کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس کے متعلق اس کی ماں کہتی ہے کہ وہ مجھے مارتا ہے حالانکہ ماں کو بچانا تو الگ رہا بعض دفعہ وہ اپنا ہاتھ بھی اچھی طرح نہیں اُٹھا سکتا مگر جانتے ہو یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ محبت کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ بچہ یہ نہیں دیکھتا میں کمزور اور ناتواں ہوں بلکہ ماں جب اسے آواز دیتی ہے تو وہ اپنی کمزور حالت کو نظر اندار کرتے ہوئے اُس کی مدد کیلئے کھڑا ہو جاتا ہے۔یہی حالت اُس رات اس گھڑی ، اس سیکنڈ اور اُس پل میں نبیوں کی ہوتی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے اے میرے بندے ! میں چھوڑ دیا گیا اے میرے بندے! مجھے دنیا نے دھتکار دیا اور مجھے اپنے گھر سے نکال دیا، کوئی ہے جو مجھے بچائے۔اور وہ ناتواں اور نحیف بندہ چھوٹے سے نادان بچے کی طرح مٹھیاں بھینچ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں بچاؤں گا میں بچاؤں گا۔پھر وہ صرف کہتا ہی نہیں بلکہ اس کو بچانے میں لگ جاتا ہے۔اس بچے کا تو عشق کامل نہیں ہوتا۔اگر واقعہ میں جو شخص ہنسی کر رہا ہوتا ہے وہ اس