خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 273
خلافة على منهاج النبوة ۲۷۳ جلد سوم بچے کو تھپڑ مارے تو اس نے ماں کو تو کیا بچانا ہے وہ خود ماں سے لپٹ جائے گا اور دوڑ کر اس کی گود میں چلا جائیگا مگر یہ شخص ایسا ہوتا ہے کہ دنیا اسے مارتی ہے ہاتھوں سے بھی لاتوں سے بھی اور دانتوں سے بھی اور چاروں طرف سے، اُس پر لعنت اور پھٹکار ڈالی جاتی ہے مگر وہ اپنے جسم کو ہلا تا نہیں ، وہ چیختا نہیں ، وہ چلاتا نہیں بلکہ برابر مقابلہ کئے جاتا ہے یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہونے لگتی ہیں اور ایک ایک کر کے ، ایک ایک کر کے، ایک ایک کر کے بندوں کو وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں لانا شروع کر دیتا ہے۔وہ کمزور باز و طاقت پکڑنے لگ جاتے ہیں ، وہ لڑکھڑانے والی زبان مضبوط ہونے لگ جاتی ہے، وہ دبی ہوئی آواز طاقت وقوت پکڑتی جاتی ہے اور وہ نہایت ہی ذلیل نظر آنے والا وجود اپنے اندر ایسی ہیبت پیدا کر لیتا ہے کہ لوگ اُس سے کانپنے اور اس کے سامنے کھڑا ہونے سے لرزتے ہیں اور وہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے کرتا چلا جاتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ ایک جماعت کو لا ڈالتا ہے اور زمین و آسمان کا خدا جسے لوگوں نے اپنے گھروں میں سے نکال دیا تھا اُس کیلئے نئے نئے محلات بننے لگ جاتے ہیں۔کوئی یہاں ، کوئی وہاں ، کوئی ادھر کوئی اُدھر اور وہ خدا جو مسیح کی طرح اپنے نبی کو یہ آواز دیتا ہے کہ اے میرے بندے! لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر میرے لئے تو سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں کہ اس کے لئے وہ سب سے پہلے اپنے دل کا دروازہ کھول دیتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ گھر حاضر ہے۔پھر وہ اور گھروں کے تالے کھولتا ہے اور دیوانہ وار مجنونا نہ کھولتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک گھر کی بجائے خدا کے کئی گھر ہو جاتے ہیں اور خدا کی حکومت زمین پر اسی طرح قائم ہو جاتی ہے جس طرح وہ آسمان پر قائم ہے۔پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے بڑھتا جاتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب خدا اپنے بندے سے کہتا ہے کہ میرے بندے ! تو نے بہت خدمت کر لی اور میں سمجھتا ہوں تو نے اپنی خدمت کا حق ادا کر دیا پس جس طرح تو نے اپنے دل کو میرے لئے کھولا تھا اور اپنے دل کو میرا گھر بنایا تھا اسی طرح آج میں تجھ کو اپنے گھر میں بلاتا ہوں آ اور میرے پاس بیٹھ۔پس خدا اس کو اپنے پاس بلا لیتا ہے اور وہ دنیا کی تکلیفوں شورشوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔