خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 267
خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کہ خدا رو پڑتا اور اگر خدا کیلئے ہنسنا ممکن ہوتا تو وہ یقیناً ہنس پڑتا۔وہ ہنستا بظا ہر اس بے وقوفی کے دعویٰ پر جو تمام دنیا کے مقابلہ میں ایک نحیف و ناتواں وجود نے کیا اور وہ رو پڑتا اس جذ بہ محبت پر جو اس تن تنہا روح نے خدا کیلئے ظاہر کیا یہی سچی دوستی تھی جو خدا کو منظور ہوئی اور اسی رنگ کی سچی دوستی ہی ہوتی ہے جو دنیا میں کام آیا کرتی ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ہی یہ واقعہ سنا ہوا ہے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتا تھا کہ تم جلدی لوگوں کو دوست بنا لیتے ہو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔سچے دوست کا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے اور وہ کہتا کہ آپ کو غلطی لگی ہوئی ہے میرے دوست سب سچے ہیں اور خواہ مجھ پر کیسی ہی مصیبت کا وقت آئے یہ میری مدد سے گریز نہیں کریں گے۔اُس نے بہتیرا سمجھایا مگر بیٹے پر کوئی اثر نہ ہوا۔باپ نے کہا کہ میں ساٹھ ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا ہوں مگر مجھے تو اب تک صرف ایک ہی دوست ملا ہے اور وہ بھی فلاں غریب شخص ، جسے اس کا بیٹا حقارت سے دیکھا کرتا تھا اور اپنے باپ سے کہا کرتا کہ آپ اتنے بڑے ہو کر اس سپاہی سے کیوں محبت رکھتے ہیں اور باپ ہمیشہ یہی کہتا کہ مجھے تمام عمر اگر کوئی سچا دوست ملا ہے تو یہی ہے۔آخر ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا تم میری بات نہیں مانتے تو تجربہ کرلو اور اپنے دوستوں سے جا کر کہو کہ میرے باپ نے مجھے اپنے گھر سے نکال دیا ہے میرے پاس رہنے کی کوئی جگہ نہیں میرے لئے رہائش اور خوراک کا انتظام کر دو۔اُس نے کہا بہت اچھا چنانچہ وہ ایک ایک کے پاس گیا مگر جس دوست کے پاس بھی جاتا وہ پہلے تو کہتا کہ آپ نے بڑی عزت افزائی فرمائی سنائیے آپ کا کیسے آنا ہوا ؟ اور جب یہ کہتا کہ میرے باپ نے مجھے نکال دیا ہے اب میں آپ کے پاس آیا ہوں تا کہ آپ میری رہائش وغیرہ کا انتظام کر دیں تو وہ یہ سنتے ہی کوئی بہانہ بنا کر اندر چلا جاتا۔غرض اسی طرح اس نے سارے دوستوں کا چکر لگایا اور آخر باپ کے پاس آکر کہا کہ آپ کی بات ٹھیک نکلی۔میرے دوستوں میں سے ایک بھی تو نہیں جس نے مجھے منہ لگایا ہو باپ نے کہا اچھا تم نے اپنے دوستوں کا تو تجربہ کر لیا اب آج کی رات میرے دوست کا بھی تجربہ کر لیتا۔چونکہ وہ امیر آدمی تھا اس لئے وہ اپنے دوست کے مکان پر نہیں جایا کرتا تھا اکثر وہی اس کے مکان پر آجا تا مگر اس رات وہ اچانک