خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 266

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۶ جلد سوم انبیاء کی ہوتی ہیں جب اللہ تعالیٰ کا پہلا کلام اُترتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے دلوں میں اتنی ہوتی ہے اتنی ہوتی ہے کہ وہ دلیل بازی نہیں کرتے اور جب خدا کی آواز ان کے کانوں میں پہنچتی ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ اے ہمارے رب کیا تو ہم سے جنسی کر رہا ہے کہاں ہم اور کہاں یہ کام بلکہ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بہت اچھا اور یہ کہہ کر کام کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد سوچتے ہیں کہ اب انہیں کیا کرنا چاہیے۔یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رات کیا۔خدا نے کہا اُٹھ اور دنیا کی ہدایت کیلئے کھڑا ہو اور وہ فوراً کھڑے ہو گئے اور پھر یہ سوچنے لگے کہ اب میں یہ کام کس طرح کروں گا۔پس آج سے پچاس سال پہلے کی وہ تاریخی رات جو دنیا کے آئندہ انقلابات کیلئے زبر دست حربہ ثابت ہونے والی ہے جو آئندہ بننے والی نئی دنیا کیلئے ابتدائی رات اور ابتدائی دن قرار دی جانے والی ہے اگر ہم اس رات کا نظارہ سوچیں تو یقیناً ہمارے دل اِس خوشی کو بالکل اور نگاہ سے دیکھیں۔ہم میں سے کتنے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ خوشی انہیں کس گھڑی کے نتیجہ میں ملی۔یہ مسرت انہیں کس پل کے نتیجہ میں حاصل ہوئی اور کس رات کے بعد ان پر کامیابی و کامرانی کا دن چڑھا۔یہ خوشی اور یہ مسرت اور یہ کامیابی و کامرانی کا دن اُن کو اُس گھڑی اور اس رات کے نتیجہ میں ملا جس میں ایک تن تنہا بندہ جو دنیا کی نظروں میں حقیر اور تمام دنیوی سامانوں سے محروم تھا اُسے خدا نے کہا کہ اُٹھ اور دنیا کی ہدایت کیلئے کھڑا ہو اور اس نے کہا اے میرے رب میں کھڑا ہو گیا۔یہ وہ وفاداری تھی ، یہ وہ محبت کا صحیح مظاہرہ تھا جسے خدا نے قبول کیا اور اس نے اپنے فضل اور رحم سے اُس کو نوازا۔رونا اور ہنسنا دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی شان سے بعید ہیں لیکن محبت کی گفتگو میں اور محبت کے کلاموں میں یہ باتیں آہی جاتی ہیں۔پس میں کہتا ہوں اگر خدا کیلئے بھی رونا ممکن ہوتا ، اگر خدا کیلئے بھی ہنسنا ممکن ہوتا تو جس وقت خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے دنیا کی اصلاح کیلئے کھڑا کرتا ہوں اور آپ فوراً کھڑے ہو گئے اور آپ نے یہ سوچا تک نہیں کہ یہ کام مجھ سے ہوگا کیونکر؟ اگر اُس وقت خدا کیلئے رونا ممکن ہوتا تو میں یقیناً جانتا ہوں