خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 268

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۸ جلد سوم بیٹے کو ساتھ لیکر اپنے دوست کے مکان پر گیا اور دروازہ پر دستک دی۔آدھی رات کا وقت تھا اُس نے پوچھا کون؟ اُس نے اپنا نام بتایا کہ میں ہوں وہ کہنے لگا بہت اچھا ذرا ٹھہریئے میں آتا ہوں یہ باہر ا نتظار کرنے لگ گئے مگر کافی وقت گزر گیا اور وہ اندر سے نہ نکلا یہ دیکھ کر بیٹا کہنے لگا جناب! آپ کا دوست بھی آخر ویسا ہی نکلا۔باپ کہنے لگا ذرا ٹھہرو مایوس نہ ہو دیر لگانے کی کوئی وجہ ہوگی آخر کوئی آدھ گھنٹہ کے بعد وہ دوست باہر نکلا اس کی حالت یہ تھی کہ اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ایک ہاتھ میں روپوں کی تھیلی تھی اور دوسرے ہاتھ سے اُس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور کہنے لگا معاف کیجئے مجھے دیر ہوگئی اصل بات یہ ہے کہ جب مجھے آپ کی آواز آئی تو میں نے سمجھا کہ ضرور کوئی بڑا کام ہے جس کیلئے آپ رات کو میرے پاس آئے ہیں میں نے سوچا کہ آخر آپ کو مجھ سے اس وقت کیا کام ہو سکتا ہے اور میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ دنیا میں مصیبتیں آتی رہتی ہیں اور بعض دفعہ بڑے بڑے امیر آدمی بھی بلاء میں گرفتار ہو جاتے ہیں پس میں نے سمجھا کہ شاید کوئی بیمار ہے جس کی خدمت کیلئے مجھے بلایا ہے اس لئے میں نے فوراً اپنی بیوی کو جگایا اور کہا کہ میرے ساتھ چل ممکن ہے کسی خدمت کی ضرورت ہو۔پھر میں نے سوچا ممکن ہے کسی دشمن سے مقابلہ ہو جس میں میری جان کی ضرورت ہو سو اس خیال کے آنے پر میں نے تلوار نکال کر گلے میں لٹکالی کہ اگر جانی قربانی کی ضرورت ہو تو میں اس کے لئے بھی حاضر ہوں۔پھر میں نے سوچا کہ آپ امیر تو ہیں ہی مگر بعض دفعہ امراء پر بھی ایسے اوقات آجاتے ہیں کہ وہ روپوں کے محتاج ہو جاتے ہیں پس میں نے سوچا کہ شاید اس وقت آپ کو روپوں کی ضرورت ہو میں نے ساری عمر تھوڑا تھوڑا جمع کر کے کچھ روپیہ حفاظت سے رکھا ہوا تھا اور اسے زمین میں ایک طرف دبا دیا تھا۔اس خیال کے آنے پر میں نے زمین کو کھود کر اس میں سے تھیلی نکالی اور اب یہ تینوں چیز میں حاضر ہیں فرمایئے آپ کا کیا ارشاد ہے؟ دنیا کی زبان میں یہ دوستی کی نہایت ہی شاندار مثال ہے اور انسان ایسے جذبات کو دیکھ کر بغیر اس کے کہ وہ اپنے دل میں شدید ہیجان محسوس کرے نہیں رہ سکتا مگر اس دوستی کا اظہار اُس دوستی کے مقابلہ میں کچھ بھی تو نہیں جو نبی اپنے خدا کیلئے ظاہر کرتے ہیں۔وہاں