خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 265

خلافة على منهاج النبوة جلد سوم کہ جہاں شراب کا ایک مٹکا ختم ہو چکا ہو وہاں دماغوں کی کیا کیفیت ہو گی۔اُس وقت وہ لوگ نشہ میں آئے ہوئے تھے اور اُن کے ہوش و حواس بہت کچھ زائل ہو چکے تھے کہ بازار میں سے اس شخص کی یہ آواز آئی کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔انہیں شراب سے مدہوش لوگوں میں سے ایک شخص گھبرا کر اُٹھا اور کہنے لگا میرے کان میں ایک آواز آئی ہے جو یہ کہہ رہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے میں باہر نکل کر دیکھوں تو سہی یہ آواز کیسی ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر اتنے پر ہی بس ہو جاتی تو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس محبت کا جو صحابہ کے دلوں میں تھی مجزا نہ نمونہ ہوتا۔شراب کے نشہ میں بھلا کون دیکھتا ہے کہ کیسی آواز آرہی ہے۔عام حالات میں تو وہ ہنستے اور کہتے کہ شراب کو کون حرام کر سکتا ہے۔پس اگر بات یہیں تک رہتی تب بھی یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ایک معجز نما ثبوت ہوتی مگر اسی پر بس نہیں جب اُس نے یہ کہا کہ میں دیکھوں تو سہی یہ آواز کیسی آرہی ہے تو ایک اور آدمی جو شراب کے نشہ میں مست بیٹھا ہوا تھا اور شراب پی پی کر اُس کے دماغ میں نشہ غالب آ رہا تھا ایک دم اس حالت سے بیدار ہوا اور بولا کہ کیا کہا تم نے ؟ ہمارے کان میں آواز پڑتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی اور تم کہتے ہ تحقیق کرو اس کی بات کہاں تک سچ ہے۔خدا کی قسم ! میں ایسا نہیں کروں گا میں پہلے شراب کا ملکہ تو ڑوں گا بعد میں پوچھوں گا۔یہ کہہ کر اُس نے سونا پکڑ کر زور سے مٹکوں کو مارا اور انہیں تو ڑ دیا اور شراب صحن میں پانی کی طرح بہنے لگی۔اس کے بعد اس نے دروازہ کھول کر اعلان کرنے والے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ اعلان کر دوں کہ شراب حرام کر دی گئی ہے اُس نے کہا ہم تو پہلے ہی شراب کے مٹکے توڑ چکے ہیں۔خدا کی رحمتیں ہوں اُس شخص پر۔اُس نے عشق کا ایک ایسا نمونہ قائم کیا کہ قیس اور مجنوں کا عشق اگر اس میں کوئی حقیقت تھی بھی اس کے عشق کے مقابل پر مرجھا کر رہ جاتا ہے۔اس حقیقی محبت کے مظاہرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں دلیلیں نہیں پوچھی جاتیں وہاں انسان پہلے اطاعت کا اعلان کرتا ہے پھر یہ سوچتا ہے کہ میں اس حکم پر کسی طرح عمل کروں۔یہی کیفیات