خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 264

خلافة على منهاج النبوة ۲۶۴ جلد سوم دنیا میں موجود تھیں، بیسیوں حکومتیں دنیا میں پائی جاتی تھیں جن کی نگاہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اتنی بھی تو عزت نہ تھی جتنی دنیا وی حکومت کے سیکرٹریٹ کے چپڑاسی کی ہوتی ہے مگر خدا نے کہا اُٹھ اور دنیا کو میرا پیغام پہنچا دے اور اُس نے کہا اے میرے رب ! میں حاضر ہوں۔اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ کام کیونکر ہوگا اس کا جسم کانپا ہو گا۔یقیناً اس کے دل پر رعشہ طاری ہوا ہوگا۔یقیناً وہ حیران ہوا ہوگا۔مگر اس نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ کام کیونکر اور کس طرح ہوگا اس کے دل کے تقویٰ اور محبت الہی نے اسے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور اس کے جذبہ فدائیت نے یہ پوچھنے ہی نہیں دیا کہ اے میرے رب ! یہ کس طرح ہوگا ؟ اُس نے پہلے کہا ہاں اے میرے رب ! میں حاضر ہوں اور پھر اس نے سوچا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں یہ کام کس طرح ہوگا ؟ یہی وہ حقیقی اطاعت کا جوش ہے جو لبیک پہلے کہلوا دیتا ہے اور فکر پیچھے پیدا ہوتا ہے۔صحابہ کی مجلس کا ہی ایک واقعہ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں سچی محبت ہوتی ہے وہاں تعمیل پہلے ہوتی ہے اور فکر بعد میں پیدا ہوتا ہے۔اہل عرب شراب کے سخت عادی تھے ایسے عادی کہ بہت کم لوگ ان کی طرح شراب کے عادی ہوتے ہیں ان کا تمام لٹریچر ، شعر ، نثر اور خطبے شراب کے ذکر سے بھرے ہوئے ہوتے تھے مسلمان بھی چونکہ انہی میں سے آئے تھے اس لئے ان میں بھی وہی عادتیں تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ماتحت شروع میں شراب حرام نہیں کی۔مکہ کا سارا زمانہ گزر گیا اور شراب حلال رہی۔مدینہ میں بھی چند سال اسی طرح گزر گئے اور شراب کی حرمت نہ ہوئی یہاں تک کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اب شراب حرام کی جاتی ہے۔آپ مسجد میں آئے اور جو لوگ اُس وقت موجود تھے ان سے کہا کہ اب خدا نے شراب حرام کر دی ہے اور ایک شخص سے کہا کہ جاؤ مدینہ کی گلیوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کر دو۔اُس وقت مدینہ میں ایک خوشی کی مجلس منعقد ہو رہی تھی اور حسب دستور اس مجلس میں شراب کے مٹکے رکھے ہوئے تھے لوگ باتیں کرتے ، گاتے بجاتے اور شرابیں پیتے جاتے تھے ایک بہت بڑا مٹکا وہ ختم کر چکے تھے اور دو مٹکے شراب کے ابھی باقی تھے۔تم سمجھ سکتے ہو