خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 263
خلافة على منهاج النبوة ۲۶۳ جلد سوم رُسوا نہیں کرے گا جب اس نے آپ کے سپر د ایک کام کیا ہے تو وہ خود آپ کی مدد کرے گا اور آپ کی کامیابی کیلئے سامان مہیا کرے گا۔حضرت خدیجہ کا یہ فقرہ تاریخ میں محفوظ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ یہی نہیں کہ تاریخ میں محفوظ ہے بلکہ ان فقروں میں سے ہے جن کو تاریخ بھی مٹا نہیں سکتی۔كَلَّا وَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ ابداً وہی ایمان العجائز ہے ، وہی یقین اور وہی وثوق ہے بغیر اس کے کہ وہ عواقب کو دیکھتیں ، بغیر اس کے کہ وہ سامانوں پر نظر دوڑا تیں۔پس اس واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قلبی کیفیت کا کسی قدر اندازه ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی الہامات نازل ہوئے کہ اُٹھو اور دنیا کو میری طرف بلا ؤ اور دنیا میں پھر میرے دین کو قائم کرو۔ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہی کیفیت آپ کی بھی ہوئی ہو گی۔آپ بھی حیران ہوئے ہوں گے کہ کہاں میں اور کہاں یہ کام۔قادیان جیسی جگہ میں میرے جیسے انسان کو آج خدا یہ کہہ رہا ہے کہ دنیا ، مہذب دنیا ، طاقتور دنیا، سامانوں والی دنیا سمجھ سے دور پڑی ہوئی ہے اتنی دور کہ دنیا اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتی۔جاؤ اور ان گناہ کے قلعوں کو پاش پاش کر دو جو اسلام کے مقابلہ میں بنائے گئے ہیں اور جاؤ اور ان شیطانی حکومتوں کو مٹا دو جو میری حکومت کے مقابلہ میں قائم کی گئی ہیں اور ان تمام بے دینی کے قلعوں اور شیطانی حکومتوں کی جگہ میری حکومت اور دین کی بادشاہت قائم کرو۔اگر کوئی شخص دور بین نگاہ رکھتا ہے، اگر کوئی شخص حقیقت کو سمجھ سکتا ہے تو میں کہوں گا کہ یہ مطالبہ اس سے بھی زیادہ مشکل تھا جیسے کسی کو چاند دکھایا جائے اور کہا جائے کہ جاؤ اور اس چاند کو جا کر توڑ ڈالو۔وہ تو وہاں جا بھی نہیں سکتا پھر اس سے یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کو توڑ ڈالے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تو وہاں پہنچ بھی نہ تھی جہاں خدا آپ کو پہنچانا چاہتا تھا۔بھلا کونسے ذرائع آپ کے پاس ایسے موجود تھے کہ آپ امرتسر کے لوگوں تک ہی اپنی آواز پہنچا سکتے یا لاہور ، بمبئی ، اور کلکتہ کے لوگوں تک یہ الہی پیغام پہنچا سکتے یا کون سے ذرائع آپ کے پاس ایسے موجود تھے کہ آپ عرب کے لوگوں کو بیدار کر سکتے۔آپ انگلستان اور امریکہ تک اپنی آواز پہنچا سکتے۔ہزاروں آواز میں دنیا میں گونج رہی تھیں، ہزاروں تو میں