خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 230
خلافة على منهاج النبوة ۲۳۰ جلد سوم کرے گا کہ اس سے سلسلہ کی بے دُعبی ہوگی اور اس کیلئے کوئی مخلص مومن تیار نہیں ہو سکتا۔ہاں بعض دفعہ بعض لوگ نادانی سے ایسا کر جاتے ہیں۔مثلاً اس دفعہ ہی سرگودھا کے ایک دوست نے نا مناسب الفاظ استعمال کئے لیکن میں بھی اور دوسرے دوست بھی محسوس کر رہے تھے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ یہ باتیں نہیں کر رہے۔اور میں نے دیکھا ہے کہ اُن کی باتوں پر دوست بالعموم مسکرارہے تھے اور سب یہ سمجھتے تھے کہ یہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں غلط کہہ رہے ہیں اور جوش میں انہیں اپنی زبان پر قابو نہیں رہا۔اور ظاہر ہے کہ ایسی بات کی تردید کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔چنانچہ میں نے اس کی تردید نہ کی اور میں سمجھتا ہوں تردید نہ کرنے سے لوگوں نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ باتیں وزنی ہیں بلکہ غالب حصہ کو یہی یقین تھا کہ یہ تردید کے قابل ہی نہ تھیں کیونکہ دوست خود ان کی باتوں پر ہنس رہے تھے اور بعض کے ہنسنے کی آواز میں نے خودسنی۔اور ہنسی کی وجہ یہ خیال تھا کہ انہوں نے کیا بے معنی نتیجہ نکالا ہے۔اور جب جماعت پر ان کی بات کا اثر ہی نہ تھا اور سب سمجھ رہے تھے کہ یہ اپنی سادگی اور نا تجربہ کاری کی وجہ سے یہ باتیں کر رہے ہیں تو ان کی تردید نہ کرنے سے نقصان کیا ہو سکتا تھا۔لیکن اس کے بالمقابل اسی مجلس شوریٰ میں میں نے ایک مثال سنائی تھی کہ ایک انجمن نے جو کسی گاؤں یا شہر کی انجمن نہ تھی بلکہ پراونشل انجمن تھی مجھے لکھا کہ ہم نے صد را انجمن کو یہ بات لکھی ہے جو اگر اس نے نہ مانی تو اس کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات نہیں رہیں گے۔میں نے انہیں لکھا کہ صدرانجمن احمد یہ جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے اور جب آپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی بات نہ مانی گئی تو صدرانجمن کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہ رہ سکیں گے تو ساتھ ہی آپ نے یہ بھی سوچ لیا ہوگا کہ خلیفہ کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہ رہیں گے اور اس صورت میں آپ کو نئی جماعت ہی بنانی پڑے گی اس جماعت میں آپ نہیں رہ سکیں گے۔تو کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس بات کے سننے کے بعد بھی کسی احمدی کے دل میں ناظروں کا رُعب مٹ سکتا ہے۔یہ کیونکر ممکن ہے کہ شوری کے ممبروں نے ناظروں کے کام پر تنقید کو تو سن لیا مگر یہ بات انہوں نے نہ سنی ہوگی اور یہ بات جو میں نے ایک دو آدمیوں کو نہیں بلکہ ایک صوبہ کی انجمن کو لکھی تھی اس کے سننے