خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 644

خلافۃ علیٰ منھاج النبوۃ (جلد سوم) — Page 231

خلافة على منهاج النبوة ۲۳۱ جلد سوم کے بعد کس طرح ممکن ہے کہ ناظروں کا رُعب مٹ جائے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس شوری میں جرح زیادہ ہوئی ہے مگر ناظروں کو بھی ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ سوچنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ایسا اس وجہ سے نہیں ہوا کہ میں نے بھی ان پر تنقید کی تھی۔جب وہ چھپے گی تو ہر شخص دیکھ سکے گا کہ شورٹی کے ممبروں نے جو جرح کی وہ میری تنقید کے نتیجہ میں نہ تھی۔اور حق بات یہ ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور جس کا مجھے شدیدا حساس ہے کہ ناظر شوری کے فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کرتے اور واقعات اس بات کو پوری طرح ثابت کرتے ہیں کہ وہ ان پر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاتا ہے کہ سال کے آخر پر ناظر اعلیٰ دوسری نظارتوں سے پوچھ لیتا ہے کہ ان فیصلوں کا کیا حال ہوا ؟ اور پھر یا تو یہ کہہ دیتا ہے کہ کوئی جواب نہیں ملا اور یا یہ کہ کوئی عمل نہیں ہوا۔میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ بعض فیصلے ناظروں کے نزدیک نا قابل عمل ہوتے ہیں مگر ایسے فیصلوں کو قانونی طور پر بدلوانا چاہئے۔وہ ایسے فیصلوں کو میرے سامنے پیش کر کے مجھ سے بدلوا سکتے ہیں۔وہ میرے سامنے پیش کر دیں میں اگر چاہوں تو دوسری شوری بلوالوں یا چاہوں تو خود ان فیصلوں کو رڈ کر دوں۔اور پھر اگر دوسری شوری میں ان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان پر اعتراض ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ رڈ ہو چکا ہے۔لیکن اگر وہ فیصلہ جوں کا توں قائم رہے اور پھر وہ اس پر عمل نہ کریں تو جماعت کے اندر بے انتظامی اور خود رائی کی ایسی روح پیدا ہوتی ہے جس کی موجودگی میں ہرگز کوئی کام نہیں ہو سکتا۔اگر شوری میں ایک فیصلہ ہوتا ہے تو ان کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں اور اگر وہ اس کو قابل عمل نہیں سمجھتے تو اس کو منسوخ کرائیں۔لیکن ایسے فیصلوں کی ایک کافی تعداد ہے جن پر کوئی عمل نہیں کیا جا تا۔مثلاً اُسی شوری میں ایک سوال پیدا ہوا تھا جس سے جماعت میں جوش پیدا ہوا۔۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں فیصلہ ہوا تھا کہ سلسلہ کے اموال پر وظائف کا جو بوجھ ہے اسے ہلکا کرنا چاہئے۔یہ تو صحیح ہے کہ جس احمدی کے پاس روپیہ نہ ہو وہ مستحق ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے انجمن سے مد مانگے اور اگر انجمن کے پاس ہو تو اُس کا فرض ہے کہ مدد کرے۔مگر اس طرح مدد لینے والے کا مدد یہ بھی فرض ہے کہ جب وہ مالدار ہو جائے تو پھر اسے ادا کرے۔۱۹۳۰ء کی شوری میں یہ فیصلہ